السنن المأثورة
باب صيام من أصبح جنبا— جنابت کی حالت میں روزہ کا بیان
باب صيام من أصبح جنباً باب: جنابت کی حالت میں روزہ کا بیان
حدیث نمبر: 297
وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ أُمَّيِ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّهُمَا قَالَتَا : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلامٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ " .نوید مجید طیب
ابو بکر بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ ماہ رمضان میں جماع کرنے کی وجہ سے جنبی ہوتے احتلام سے نہیں، تو پھر (اسی حالت میں) روزہ بھی اس دن کا رکھ لیتے۔
وضاحت:
➊ نہارِ رمضان میں بیوی سے جماع کرنا منع ہے اور اس کا کیا کفارہ ہے اس کی تفصیل بیان ہو چکی ہے دیکھئے شرح حدیث نمبر 286، 288۔
➋ روزے دار حالتِ جنابت میں سحری کر سکتا ہے۔
➌ سحری کے بعد نمازِ فجر سے قبل غسل کرنا لازم ہے۔
➍ خیر القرون میں حکمران بھی مسائل کی پوری تحقیق کرتے احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دریافت کرنے کی جستجو میں رہتے اور مجتہدین تک احادیث پہنچاتے آج کے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نشر و اشاعت کریں صحیح و ضعیف کا امتیاز کریں علماء کو کتبِ احادیث مہیا کریں جیسا کہ مروان رحمہ اللہ نے ایک حدیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تک پہنچانے کے لیے گھوڑا مہیا کیا۔
➎ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سن کر ذاتی اجتہاد یا دوسرے کسی امتی کے بتائے ہوئے فتوے سے فوراً رجوع کرنا علماءِ امت کے لیے نمونہ ہے۔
اصل دین آمد کلام اللہ معظم وا ثمن
پس حدیثِ مصطفی بر جاں مسلم داشتن
➏ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے کا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا احترام کرنا پہلے دائیں بائیں کی باتیں کرنا پھر عالمِ دین کو احترام سے کہنا کہ حاکمِ وقت نے اس غرض سے آپ کے پاس بھیجا ہے ادب کی عظیم مثال ہے آج کل کے جاہل کانسٹیبلان کے لیے اس میں نمونہ ہے مساجد میں علماء کے پاس حکومتی حکم نامہ لے کر جاتے ہیں تو بد تمیزی کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں تو حکومتی آرڈر ہے، اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے کہ اسلامی تربیت کارندوں کے لیے کتنی ضروری ہے۔
➋ روزے دار حالتِ جنابت میں سحری کر سکتا ہے۔
➌ سحری کے بعد نمازِ فجر سے قبل غسل کرنا لازم ہے۔
➍ خیر القرون میں حکمران بھی مسائل کی پوری تحقیق کرتے احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دریافت کرنے کی جستجو میں رہتے اور مجتہدین تک احادیث پہنچاتے آج کے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نشر و اشاعت کریں صحیح و ضعیف کا امتیاز کریں علماء کو کتبِ احادیث مہیا کریں جیسا کہ مروان رحمہ اللہ نے ایک حدیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تک پہنچانے کے لیے گھوڑا مہیا کیا۔
➎ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سن کر ذاتی اجتہاد یا دوسرے کسی امتی کے بتائے ہوئے فتوے سے فوراً رجوع کرنا علماءِ امت کے لیے نمونہ ہے۔
اصل دین آمد کلام اللہ معظم وا ثمن
پس حدیثِ مصطفی بر جاں مسلم داشتن
➏ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے کا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا احترام کرنا پہلے دائیں بائیں کی باتیں کرنا پھر عالمِ دین کو احترام سے کہنا کہ حاکمِ وقت نے اس غرض سے آپ کے پاس بھیجا ہے ادب کی عظیم مثال ہے آج کل کے جاہل کانسٹیبلان کے لیے اس میں نمونہ ہے مساجد میں علماء کے پاس حکومتی حکم نامہ لے کر جاتے ہیں تو بد تمیزی کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں تو حکومتی آرڈر ہے، اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے کہ اسلامی تربیت کارندوں کے لیے کتنی ضروری ہے۔