السنن المأثورة
باب صيام من أصبح جنبا— جنابت کی حالت میں روزہ کا بیان
باب صيام من أصبح جنباً باب: جنابت کی حالت میں روزہ کا بیان
وَأَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ : كُنْتُ أَنَا وَأَبِي ، عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَذَكَرَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَقَالَ مَرْوَانُ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَتَذْهَبَنَّ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّا كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَتَرْغَبُ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ؟ ! قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : لا وَاللَّهِ ، قَالَتْ : فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلامٍ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ " ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا مَرْوَانَ فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا ، فَقَالَ مَرْوَانُ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَتَرْكَبَنَّ دَابَّتِي فَإِنَّهَا بِالْبَابِ فَلْتَذْهَبَنَّ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنَّهُ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَلَتُخْبِرَنَّهُ ذَلِكَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَرَكِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَكِبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَتَحَدَّثَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَةً ثُمَّ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " لا عِلْمَ لِي بِذَلِكَ إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ مُخْبِرٌ " .ابو بکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد عبدالرحمن رضی اللہ عنہ امیر مدینہ مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس تھے تو اس سے ذکر کیا گیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس کی صبح جنابت کی حالت میں ہو جائے وہ اس دن روزہ نہ رکھے بلکہ افطار کرے۔ تو مروان رحمہ اللہ نے کہا اے عبدالرحمن! تجھے قسم ہے جاؤ اور جا کر ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مسئلہ پوچھ کر آؤ۔ ابو بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں ہم عبد الرحمن کے ساتھ میں بھی گیا جب حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں داخل ہوئے تو سلام کیا پھر عبد الرحمن نے پوچھا: اے ام المومنین! ہم مروان کے پاس تھے کہ اسے بتایا گیا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فتوی دیتے ہیں کہ جس نے سحری تک غسل نہ کیا جنابت میں صبح کر لی اس دن کا روزہ افطار کرے (یعنی حالت جنابت میں روزہ نہیں رکھ سکتا)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگی مسئلہ اس طرح بالکل نہیں جیسے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا اے عبدالرحمن! کیا تو رسول اللہ ﷺ کا طریقہ چھوڑے گا؟ عبدالرحمن نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! تو فرمانے لگی کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ احتلام کے بغیر یعنی ہمبستری سے جنبی ہوتے پھر اس دن کا روزہ بھی رکھتے۔ ابو بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں پھر ہم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف گئے انہیں سلام کیا اور یہی مسئلہ پوچھا تو اُن کا جواب بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والا تھا ہم وہاں سے نکلے مروان کے ہاں آئے تو عبدالرحمن نے انہیں دونوں کے جواب سے آگاہ فرمایا تو مروان نے پھر قسم دی کہ اے ابا محمد! دروازے پر میری سواری ہے اس پر سوار ہو کر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ اپنی زمین عقیق میں ہیں (اس وقت) انہیں ضرور مسئلہ بتاؤ۔ ابو بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن سوار ہوئے تو میں بھی اُن کے ساتھ ہو لیا حتی کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے کچھ دیر عبدالرحمن اُن سے بات چیت کرتے رہے پھر اُن سے مسئلہ کا تذکرہ کیا، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے (بروئے حدیث) اس کا علم نہیں مجھے کسی نے اس طرح بتایا تھا۔