السنن المأثورة
باب صيام من أصبح جنبا— جنابت کی حالت میں روزہ کا بیان
باب صيام من أصبح جنباً باب: جنابت کی حالت میں روزہ کا بیان
وَأَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، مَوْلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ وَأَنَا أَسْمَعُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَغْتَسِلُ ثُمَّ أَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي " .ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے کہا جبکہ آپ ﷺ دروازے میں کھڑے تھے اور میں سن رہی تھی اے اللہ کے رسول ﷺ! میں صبح جنابت کی حالت میں کرتا ہوں جبکہ میرا ارادہ روزے کا ہوتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”میں بھی جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور میرا ارادہ روزے کا ہوتا ہے تو غسل کرتا ہوں پھر اُس دن روزہ بھی رکھتا ہوں“ تو وہ آدمی کہنے لگا آپ ﷺ تو ہماری مانند نہیں آپ ﷺ کے تو پہلے پچھلے اللہ نے معاف کر دیے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ غضبناک ہوئے پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور میں تم میں سب سے زیادہ ان چیزوں کو جانتا ہوں جن سے بچنا چاہیے۔“