حدیث نمبر: 289
وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنْ أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا فَلا يَرْفُثْ وَلا يَجْهَلْ فَإِنِ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ " . وَزَادَ أَبُو الزِّنَادِ فِيهِ : " وَإِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الطَّعَامِ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی کسی دن روزے سے ہو تو فحش گوئی نہ کرے اور نہ جہالت والا کوئی کام کرے اگر اسے کوئی گالم گلوچ کرے تو اسے کہے کہ ”میں نے روزہ رکھا ہوا ہے میں روزہ دار ہوں۔“ ابو الزناد رحمہ اللہ نے اتنا اضافہ کیا کہ جب تمہارا کوئی بندہ کھانے کی طرف بلایا جائے اور وہ روزہ دار ہو تو کہے ”میں روزے سے ہوں۔“

وضاحت:
➊ روزہ انسان کی جسمانی و روحانی تربیت کرتا ہے۔
➋ روزہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک روزہ دار کے لیے بداخلاقی، گالم گلوچ اور جہالت کو بھی برداشت کرنا لازم ہے۔
➌ معلوم ہوا روزہ دار کسی کی بداخلاقی کو برداشت کرے گا لہذا اس کے لیے اولیٰ خود بداخلاقی، گالم گلوچ اور ہر قسم کے اخلاق رذیلہ سے اجتناب لازم ہے۔
➍ نفلی روزہ ہو تو کھانے کی دعوت ملے تو دعوت میں شریک بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے، اور اگر اپنا عذر پیش کر دے کہ میں روزے سے ہوں تو یہ ریاکاری میں نہیں آتا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 289
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصيام، باب حفظ اللسان للصائم، رقم : 1151، سنن ابی داؤد، الصوم، باب الغيبة للصائم، رقم : 2363