حدیث نمبر: 288
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ , " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلا أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً ، أَوْ صِيَامَ شَهْرَيْنِ ، أَوْ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو حکم دیا جس نے رمضان میں روزہ توڑا تھا کہ ”غلام آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔“

وضاحت:
➊ نہار رمضان میں بیوی سے ہم بستری کرنے سے تین باتوں میں سے ایک لازم آتی ہے: غلام آزاد کرے، اگر اس کی طاقت نہیں تو دو ماہ مسلسل روزے رکھے، یہ بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔
➋ درست بات یہی ہے کہ یہ کفارہ صرف جماع سے روزہ توڑنے پر لازم آتا ہے۔ اگر بیوی بھی راضی ہو تو اس پر بھی یہ کفارہ علیحدہ سے لازم ہے، اگر مجبور کی گئی تو صرف روزے کے بدلے روزہ رکھے اور استغفار کرے۔
➌ جتنے دن اس طریقے سے روزہ توڑے گا اس پر اتنے ہی کفارے پڑیں گے اور روزے کی قضا بھی دے گا۔ اگر کھانا کھا کر روزہ توڑا تو توبہ و استغفار کرے اور روزے کی قضا بھی دے یعنی رمضان کے بعد روزہ رکھے۔
➍ روزہ کھانے پینے، جماع کرنے یا مشت زنی سے ٹوٹ جاتا ہے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ مشت زنی کرنے سے اگر روزہ توڑا ہے تو شام تک کھانے پینے سے بھی رکا رہے اور اس کی جگہ روزے کی قضا بھی دے۔
➎ جان بوجھ کر روزہ توڑنا کبیرہ گناہ ہے۔
➏ صرف قضا دینے سے لازم نہیں آتا کہ توبہ خود بخود قبول ہو جائے گی بلکہ اللہ رب العزت سے صدق دل سے توبہ و استغفار بھی کرنا ہو گا۔
➐ رمضان المبارک کی راتوں میں ازدواجی تعلقات کی شرعاً اجازت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىٕكُمْؕ-هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّؕ-عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْۚ-فَالْــٴٰـنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ۪-وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪-ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِۚ-وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَۙ-فِی الْمَسٰجِدِؕ-تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَاؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ﴾ [البقرة: 187]
تمھارے لیے روزے کی رات اپنی عورتوں سے صحبت کرنا حلال کر دیا گیا ہے، وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے جان لیا کہ بے شک تم اپنی جانوں کی خیانت کرتے تھے، چنانچہ اس نے تم پر توجہ فرمائی اور تمھیں معاف کر دیا، اس لیے اب تم ان سے ہم بستری کر سکتے ہو اور اللہ نے تمھارے لیے جو لکھ رکھا ہے وہ تلاش کرو، اور کھاؤ اور پیو، حتی کہ تمھارے لیے صبح کی سفید دھاری کالی دھاری سے واضح روشن ہو جائے، پھر تم روزے کو رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھو تو اپنی عورتوں سے ہم بستری نہ کرو یہ اللہ کی حدیں ہیں، لہذا تم ان کے قریب مت جاؤ، اللہ لوگوں کے لیے اپنی آیتیں اسی طرح بیان فرماتا ہے تاکہ وہ متقی بنیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 288
تخریج حدیث انظر ما قبلہ، برقم: 287