حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : إِنَّا خَبَأْنَا لَكَ حَيْسًا ، فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي كُنْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ وَلَكِنْ قَرِّبِيهِ سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ عَامَّةَ مُجَالَسَتِهِ لا يَذْكُرُ فِيهِ " سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " ، ثُمَّ عَرَضْتُهُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِسَنَةٍ فَأَجَازَ فِيهِ " سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے حجرے میں داخل ہوئے میں نے کہا ہم نے ایک چیز آپ کے لیے چھپا رکھی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا تو روزے کا ارادہ تھا (پھر افطار کیا) فرمایا لیکن قریب ہی کسی دن اس روزے کی جگہ روزہ رکھ لوں گا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے میں عام مجالس میں یہ حدیث سنتا تو ”قریب ہی اس کی جگہ روزہ رکھوں گا“ کے الفاظ نہیں بیان کرتے تھے پھر میں نے یہ حدیث اُن پر ان کی وفات سے ایک سال قبل پڑھی تو انہوں نے ان الفاظ کا اضافہ کروایا کہ ”قریب ہی کسی دن اس روزہ کی جگہ روزہ رکھوں گا۔“
➋ مذکورہ حدیث کا اضافہ کہ اس دن کی جگہ روزہ رکھوں گا امام دارقطنی، امام بیہقی اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس زیادتی کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ضعیف نہ بھی ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ قضا لازم ہو گئی ہے، جو بذات خود لازم نہیں اس کی قضا و بدل کیسے لازم ہو گا؟