حدیث نمبر: 290
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : إِنَّا خَبَأْنَا لَكَ حَيْسًا ، فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي كُنْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ وَلَكِنْ قَرِّبِيهِ سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ عَامَّةَ مُجَالَسَتِهِ لا يَذْكُرُ فِيهِ " سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " ، ثُمَّ عَرَضْتُهُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِسَنَةٍ فَأَجَازَ فِيهِ " سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " .
نوید مجید طیب

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے حجرے میں داخل ہوئے میں نے کہا ہم نے ایک چیز آپ کے لیے چھپا رکھی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا تو روزے کا ارادہ تھا (پھر افطار کیا) فرمایا لیکن قریب ہی کسی دن اس روزے کی جگہ روزہ رکھ لوں گا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے میں عام مجالس میں یہ حدیث سنتا تو ”قریب ہی اس کی جگہ روزہ رکھوں گا“ کے الفاظ نہیں بیان کرتے تھے پھر میں نے یہ حدیث اُن پر ان کی وفات سے ایک سال قبل پڑھی تو انہوں نے ان الفاظ کا اضافہ کروایا کہ ”قریب ہی کسی دن اس روزہ کی جگہ روزہ رکھوں گا۔“

وضاحت:
➊ نفلی روزہ توڑا جا سکتا ہے اور اس کی کوئی قضا یا گناہ نہیں، متعدد روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل موجود ہے کہ نفلی روزہ کے دوران اگر کچھ کھانے کو میسر آ جاتا تو تناول فرما لیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نفلی روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا حاکم ہے، چاہے پورا کرے چاہے تو افطار کرے۔ [سنن ترمذی: 732، وقال الالبانی: صحیح]
➋ مذکورہ حدیث کا اضافہ کہ اس دن کی جگہ روزہ رکھوں گا امام دارقطنی، امام بیہقی اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس زیادتی کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ضعیف نہ بھی ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ قضا لازم ہو گئی ہے، جو بذات خود لازم نہیں اس کی قضا و بدل کیسے لازم ہو گا؟
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 290
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصوم، باب في الرخصة في ذلك، رقم : 2455 وقال الالباني: حسن صحيح سنن ترمذى، الصوم، باب صيام المتطوع بغير تبييت، رقم : 734 وقال حسن