حدیث نمبر: 287
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا فَقَالَ : إِنِّي لا أَجِدُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ : " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقَ بِهِ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَجِدُ أَحَدًا أَحْوَجَ مِنِّي ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " كُلْهُ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نے رمضان میں روزہ (جماع سے) توڑ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے کفارہ کے طور پر غلام آزاد کرنے یا دو ماہ کے روزے رکھنے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا، وہ آدمی کہنے لگا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ تو رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ٹوکری کھجور آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لے لو اس کا صدقہ کر دو“، تو کہنے لگا مجھ سے بڑا ان کا کوئی ضرورت مند نہیں، تو رسول اللہ ﷺ ہنسے حتی کہ داڑھیں مبارک عیاں ہو گئیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ہی کھا لے۔“