حدیث نمبر: 279
عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِيَّنَا أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ فِينَا لا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا " .نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنی لونڈیاں جو اولاد کی مائیں تھیں فروخت کرتے تھے جبکہ نبی ﷺ ہم میں زندہ تھے، ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
وضاحت:
➊ عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل غلاموں اور لونڈیوں کا کاروبار عام تھا۔ شریعت اسلامیہ نے بھی اس کی اجازت دی البتہ اس سلسلہ میں کچھ ایسے اصول و ضوابط وضع کیے جن سے ان کی آزادی آسان بنائی اور اس کاروبار کی وجہ سے جو عام غلاموں اور لونڈیوں کو پریشانیاں تھیں ان کا ازالہ کیا۔
➋ لونڈی کی اگر مالک کے نطفے سے اولاد ہو جائے تو اولاد آزاد ہو گی اور مالک کی وفات پر عورت بھی آزاد ہو جائے گی، لیکن اولاد پیدا ہونے کے باوجود کیا مالک لونڈی آگے فروخت کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے اور دونوں طرف دلائل ہیں۔ البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں اس بیع پر سرکاری طور پر پابندی عائد کر دی تھی۔ [سنن ابي داود: 3954]
اس کی ایک وجہ بعض علماء نے یہ بیان کی ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں یہ بیع جائز تھی بعد میں اس سے منع کر دیا گیا تھا جس کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نافذ کیا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ متقدمین میں یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا لیکن متاخرین میں ممنوع ہونے پر اتفاق ہو گیا تھا۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نے بھی ممانعت کو راجح قرار دیا ہے۔
➋ لونڈی کی اگر مالک کے نطفے سے اولاد ہو جائے تو اولاد آزاد ہو گی اور مالک کی وفات پر عورت بھی آزاد ہو جائے گی، لیکن اولاد پیدا ہونے کے باوجود کیا مالک لونڈی آگے فروخت کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے اور دونوں طرف دلائل ہیں۔ البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں اس بیع پر سرکاری طور پر پابندی عائد کر دی تھی۔ [سنن ابي داود: 3954]
اس کی ایک وجہ بعض علماء نے یہ بیان کی ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں یہ بیع جائز تھی بعد میں اس سے منع کر دیا گیا تھا جس کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نافذ کیا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ متقدمین میں یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا لیکن متاخرین میں ممنوع ہونے پر اتفاق ہو گیا تھا۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نے بھی ممانعت کو راجح قرار دیا ہے۔