حدیث نمبر: 278
عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَلَحْمِي وَعَظْمِي وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
نوید مجید طیب

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رکوع میں پڑھتے: ”اے اللہ میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا تو میرا رب ہے، میرے کان، آنکھیں، گوشت اور ہڈیاں تیرے سامنے جھکے، میرے قدم تمام جہانوں کے پالنے والے رب کے لیے کھڑے ہوئے۔

وضاحت:
➊ انسان کو اللہ رب العالمین نے پیدا کیا ہے لہذا اس کا ہر عضو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف ہونا چاہیے۔ سر جھکے تو رب کے سامنے، قدم چلیں تو رب کے لیے، زبان بولے تو اللہ کے لیے اور ہاتھ حرکت کرے تو رب کے احکام کی بجا آوری کے لیے، یہی مقصود زندگی ہے۔
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
"اللہ تعالیٰ نے زندگی اپنی بندگی کے لیے دی ہے، بندگی کے بغیر زندگی انسان کے لیے باعث ندامت و شرمندگی ہو گی"۔
➋ رکوع و سجود کی متعدد ادعیہ ماثورہ ہیں، جو بسند صحیح ثابت ہوں انسان کو وہ سب یاد کر کے ان پر وقتاً فوقتاً عمل کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 278
تخریج حدیث سنن نسائی، التطبيق، باب نوع آخر منه، رقم : 1050 ، وقال الالبانی: صحيح