حدیث نمبر: 280
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " لِلْبِكْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلاثٌ فَتِلْكُمُ السُّنَّةُ " .نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (شادی شدہ آدمی) کنواری عورت سے شادی کر لے تو اس کے ہاں سات روز ٹھہرے اور اگر بیوہ یا مطلقہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین دن ٹھہرے (پھر باری مقرر کرے) یہ سنت ہے۔
وضاحت:
➊ «فتلكم السنة» کے الفاظ اس حدیث کے مرفوع ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔
➋ دین اسلام نے عدل کی شرط کے ساتھ مردوں کو دو دو، تین تین، اور چار چار شادیوں کی اجازت دی ہے۔
➌ تمام بیویوں میں عدل کرنا فرض ہے، عدل تین چیزوں کا نام ہے: نان و نفقہ، رہائش اور رات گزارنے میں۔
➍ شادی شدہ مرد جس کی پہلے عورت یا عورتیں موجود ہوں اگر کنواری لڑکی بیاہ لائے تو سات دن اس کے ساتھ رہے پھر باری مقرر کرے گا، اگر ثیبہ، بیوہ یا مطلقہ جو شادی کا مزہ چکھ چکی ہے بیاہ لایا ہے تو اس کے ہاں تین دن ٹھہرے گا پھر باری مقرر کرے گا۔
➎ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل» [سنن ابی داؤد: 2133، وقال الالبانی: صحیح]
جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ کسی ایک کی طرف مائل ہو گیا تو وہ قیامت کے روز اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا۔
➋ دین اسلام نے عدل کی شرط کے ساتھ مردوں کو دو دو، تین تین، اور چار چار شادیوں کی اجازت دی ہے۔
➌ تمام بیویوں میں عدل کرنا فرض ہے، عدل تین چیزوں کا نام ہے: نان و نفقہ، رہائش اور رات گزارنے میں۔
➍ شادی شدہ مرد جس کی پہلے عورت یا عورتیں موجود ہوں اگر کنواری لڑکی بیاہ لائے تو سات دن اس کے ساتھ رہے پھر باری مقرر کرے گا، اگر ثیبہ، بیوہ یا مطلقہ جو شادی کا مزہ چکھ چکی ہے بیاہ لایا ہے تو اس کے ہاں تین دن ٹھہرے گا پھر باری مقرر کرے گا۔
➎ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل» [سنن ابی داؤد: 2133، وقال الالبانی: صحیح]
جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ کسی ایک کی طرف مائل ہو گیا تو وہ قیامت کے روز اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا۔