حدیث نمبر: 275
عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ ، رَآهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، صَلَّيْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : لا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلا تَصِلْهَا بِصَلاةٍ حَتَّى تَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ ، " فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِذَلِكَ لا تُوصَلُ صَلاةٌ بِصَلاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَكَلَّمَ " .
نوید مجید طیب

عمر بن عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نافع بن جبیر رحمہ اللہ نے انہیں نمر کے بھانجے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ اُن سے اُس بات کے بارے میں دریافت کروں جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز میں دیکھی تھی سائب رحمہ اللہ نے کہا: ہاں میں نے مسجد کے حجرے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی اور جب امام نے سلام پھیرا میں نے اپنی جگہ پر ہی کھڑے ہو کر نماز پڑھی جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا یہ کام آئندہ نہ کرنا، جب تم جمعہ پڑھ لو تو اسے کسی دوسری نماز سے نہ ملانا حتی کہ بات کر لو یا اس جگہ سے نکل جاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا حکم دیا تھا کہ ”تو ایک نماز کو دوسری سے نہ ملانا یہاں تک کہ اس جگہ سے منتقل نہ ہو جائے یا گفتگو نہ کر لے۔“

وضاحت:
➊ عالم کو مسئلہ بیان کرتے ہوئے دلیل بھی بیان کرنی چاہیے جیسا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اکثر مسئلہ بیان کرتے ہوئے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا باقاعدہ حوالہ پیش کیا کرتے تھے۔
➋ دین اسلام اپنے پیروکاروں کو منظم زندگی گزارنے کی ہدایت کرتا ہے۔
➌ فرضوں کے فوراً بعد سنن ادا نہیں کرنی چاہئیں بلکہ تھوڑے وقفہ سے، نماز کے بعد کے مسنون اذکار سے فارغ ہو کر سنن و نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے۔
➍ آج کل جوں ہی امام سلام پھیرتا ہے بعض لوگ فوراً بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، نہ اذکار کرتے ہیں اور نہ گھر جا کر سنن ادا کرتے ہیں، اور بعض فوراً اٹھ کر سنن شروع کر دیتے ہیں، یہ خلاف سنت عمل ہے اور ان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
➎ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ: «فالسنة هو أن يفصل بين الفريضة و النافلة إما بالمكان أو بالكلام» یعنی سنت عمل یہ ہے کہ فرض اور نفل نماز میں جگہ کی تبدیلی یا بات چیت سے کچھ وقفہ کرنا چاہیے۔
➏ فرائض کے بعد مسنون اذکار کرنے چاہئیں، انفرادی طور پر دعا بھی کی جا سکتی ہے۔
➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أيعجز أحدكم أن يتقدم أو يتأخر أو عن يمينه أو عن شماله» [سنن ابی داؤد: 1006]
"کیا تم اس بات سے عاجز ہو کہ فرضوں کے بعد آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہو جاؤ" (نفل و سنن پڑھنے کے لیے)۔
➑ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک بندہ فوراً کھڑا ہو کر نوافل پڑھنے لگا تو انہوں نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، اہل کتاب کی ہلاکت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ نمازوں میں فصل اور وقفہ نہیں کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: "عمر نے اچھا کیا ہے۔" [سلسلہ صحیحہ: 2549]
امام البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ ایسا فعل حرام ہے جیسا کہ کثیر عجمی اور خصوصی طور پر ترکی حرمین میں کرتے ہیں کہ جوں ہی سلام پھیرا سنن کے لیے کھڑے ہو گئے۔ [سلسلہ صحیحہ: 105/6]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 275
تخریج حدیث صحیح مسلم، الجمعة، باب الصلاة بعد الجمعة، رقم: 883