حدیث نمبر: 274
أَنْبَأَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ ، أَخْبَرَهُ وَكَانَ ، يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حَتَّى جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ قَالَ : فَقُلْتُ لأَبِي مَحْذُورَةَ : أَيْ عَمِّ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكِ ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ قَالَ لَهُ : نَعَمْ خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ فَلَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَكِّبُونَ فَصَرَخْنَا نَحْكِيهِ وَنَسْتَهْزِئُ بِهِ ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا إِلَى أَنْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ ؟ " فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلَيَّ وَصَدَقُوا فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي فَقَالَ : " قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلاةِ " ، فَقُمْتُ وَلا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ نَفْسَهُ ، فَقَالَ : " قُلِ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ , اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ , أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ . أَشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " ، ثُمَّ قَالَ لِي : " ارْجِعْ وَامْدُدْ مِنْ صَوْتِكَ ثُمَّ قَالَ لِي : قُلْ : أَشْهَدُ أنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ , أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ , حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ , حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ , اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ , لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " ، ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ وَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ ثُمَّ بَلَغَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَارِكَ اللَّهُ فِيكَ وَبَارِكَ عَلَيْكَ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ . قَالَ : " قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ " وَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرَاهِيَةٍ ، وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَأَخْبَرَنِي ذَلِكَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنَ آلِ أَبِي مَحْذُورَةَ فَمَنْ أَدْرَكَ أَبَا مَحْذُورَةَ عَلَى نَحْوِ مِمَّا أَخْبَرَ ابْنُ مُحَيْرِيزٍ .
نوید مجید طیب

عبداللہ بن محیریز رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ یتیم تھے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی گود میں پرورش پائی حتی کہ سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تیار کر کے شام روانہ کیا تو کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: چچا میں شام جا رہا ہوں مجھے امید ہے کہ (وہاں) مجھ سے آپ کی اذان کے بارے میں سوال کیا جائے گا (مجھے کچھ بتا دیں) تو سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کچھ لوگوں کے ساتھ نکلا ہم حنین کے راستے پر تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس آ رہے تھے راستے میں ہماری ملاقات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نماز کے لیے اذان کہی ہم نے مؤذن کی آواز سنی ہم کچھ دور تھے ہم نے بلند آواز مؤذن کی نقل اتارنی شروع کی ہم اس کا مذاق اڑا رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آوازیں سنی تو ہمیں بلوایا حتی کہ ہم آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے وہ کون ہے جس کی بلند آواز میں نے سنی ہے؟“ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اور سچ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو چھوڑ دیا مجھے روک لیا اور فرمایا: ”اٹھو نماز کی اذان کہو“ میں کھڑا ہوا تو مجھے سب سے ناپسند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کا یہ حکم تھا۔ (اس وقت یہ مسلمان نہیں تھے) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے اذان سکھائی فرمایا کہ: «اللَّهُ اَكْبَرُ اللَّهُ اَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ اَكْبَرُ، اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ»، پھر آپ نے فرمایا دوبارہ سے کہو: «اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، اَشْهَدُ اَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ، اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَيَّى عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» پھر مجھے بلایا جب اذان پوری ہوگئی پھر مجھے ایک تھیلی دی جس میں چاندی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری پیشانی پر رکھا چہرے پر پھر سامنے دل پر پھیرا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناف پر ہاتھ رکھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا دی «بَارِكَ اللَّهُ فِيكَ وَبَارِكَ عَلَيْكَ» (تو ایمان اندر سرایت کر چکا تھا) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے مکہ کا مؤذن بنا دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے تعینات کر دیا“ تو ساری کراہت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی جاتی رہی اس کی جگہ محبت لوٹ آئی تو میں گورنر مکہ عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اذان کہتا رہا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی کہ میں نے آل ابی محذورہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسے ہی سنا جیسے عبد اللہ بن محیریز رحمہ اللہ نے خبر دی۔

وضاحت:
➊ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کفر کی حالت میں دیگر لوگوں کے ساتھ اذان کا مذاق اڑا رہے تھے، آواز اونچی اور پیاری تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں گرفتار کر کے لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور رحمت سے اسلام کی دولت ملی اور وہ مؤذن رسول صلی اللہ علیہ وسلم تعینات ہو گئے۔
➋ اس اذان کو دوہری اذان کہا جاتا ہے، یہ بھی جائز اور سنت طریقہ ہے۔
➌ تمام کتب احادیث میں اذان «الله اكبر» سے شروع ہوتی ہے۔ دین میں اضافہ کرنے والے جو نعوذ باللہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقص چھوڑ دیا اور ہم پورا کرنے آئے ہیں، وہ اذان «الصلاة والسلام عليك» سے شروع کرتے ہیں جو سراسر بدعت اور مخالفت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ دودھ میں پانی یا زمزم ڈالا جائے پھر بھی وہ ملاوٹ ہی شمار ہو گی، اسی طرح اذان کے شروع میں کسی نیک ہستی یا بڑے امام کی بات بھی شامل کی جائے تو وہ ملاوٹ اور اضافہ ہی رہے گا۔ خالص اذان وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سکھا کر گئے۔
فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: «من أحدث فى أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد» [صحیح بخاری: 2697]
یعنی جس نے ہمارے اس دینی معاملے میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔
➍ ترجیع والی یا دوہری اذان میں شہادتین کے کلمات پہلے دو دو دفعہ پست آواز میں اور پھر دوبارہ بلند آواز میں کہے جائیں گے۔ [سنن ابي داود: 500]
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ والی اذان کے 19 کلمات ہیں اور اقامت کے 17 کلمات ہیں، یعنی اذان دوہری دی جائے تو اقامت بھی دوہری کہنی چاہیے۔ مقلدین اذان بلال رضی اللہ عنہ والی اور اقامت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ والی کہتے ہیں، اگرچہ اذان کے شروع میں خود ساختہ کلمات بھی لگاتے ہیں جس کا نام انہوں نے درود رکھا ہوا ہے۔
➎ اذان کے لیے بلند اور خوبصورت آواز والے مؤذن کا انتخاب کرنا چاہیے۔
➏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود شعائر اسلام کی نو مسلموں کو تعلیم دیتے تھے۔
➐ جس انسان میں جو صلاحیت و لیاقت ہو اس سے وہ خدمت لینا طریقہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
➑ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جیسے ہی کفر کو چھوڑا، ایمان ان کے سینوں میں رچ بس گیا اور پھر ان کی محبت و دشمنی کے معیار فوراً بدل گئے۔
➒ ایک ہی دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بغض اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جمع نہیں ہو سکتے۔
➓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کریمانہ اخلاق سے متاثر ہو کر اکثر و بیشتر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسلام لائے۔
⓫ کسی علاقہ میں سرکاری ذمہ داری سنبھالنے والے شخص کو اس علاقہ کے سینئر آفیسر کو تقرری لیٹر پیش کرنا چاہیے تاکہ مسائل جنم نہ لیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 274
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب كيف الأذان، رقم: 503 وقال الالباني: صحيح، سنن نسائی، الاذان، باب كيف الاذان، رقم: 632، سنن ابن ماجه، الاذان، باب الترجيع في الأذان، رقم: 708