حدیث نمبر: 273
أَنْبَأَنَا أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَجْلانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِقُبَاءَ " بَالَ ، ثُمَّ مَسَحَ ذَكَرَهُ بِالْجِدَارِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ دَخَلَ مَسْجِدَ قُبَاءَ فَصَلَّى " .
نوید مجید طیب

محمد العجلانی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو قباء میں چھوٹا پیشاب کرتے ہوئے دیکھا کہ پیشاب کے بعد انہوں نے شرمگاہ کو صاف کیا پھر وضوء کیا اور موزوں پر مسح کیا مسجد قباء میں داخل ہوئے تو نماز پڑھی۔

وضاحت:
➊ اگر جرابیں یا موزے باوضو حالت میں پہنے ہوں تو اگلی نماز کے لیے مسح کر لینا جائز عمل ہے۔
➋ پیشاب پاخانہ سے مسح باطل نہیں ہوتا۔
➌ اگر وضو ٹوٹ جائے اور آدمی ایک جراب اتار کر پھر پہنے تو مسح نہیں کیا جائے گا بلکہ پاؤں دھوئے گا، ایسے ہی مدت مسح پوری ہو جائے تو بھی پاؤں دھوئے گا۔
➍ مدت مسح مسافر کے لیے تین دن اور تین رات ہے اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات یعنی پانچ نمازیں مسح کر کے آدمی پڑھ سکتا ہے۔
➎ اگر باوضو حالت میں جرابیں پہنیں پھر وضو ٹوٹ گیا، اس کے اوپر ایک اور جرابوں کا جوڑا چڑھا لیا تو اس پر بھی مسح کیا جا سکتا ہے کیونکہ پاؤں ننگا نہیں ہوا۔ (واللہ اعلم)
➏ جنبی ہو جانے پر غسل کے لیے جرابیں اور موزے اتارے جائیں گے۔
➐ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بول و براز نواقض وضو میں سے ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 273
تخریج حدیث مؤطا امام مالك، الطهارة، باب ماجاء في المسح على الخفين، رقم: 44 اسناده صحيح