السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 264
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا فَأَعْجَبَهُ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا هُوَ طَعَامٌ مَبْلُولٌ فَقَالَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک غلہ فروش سے ہوا جس کا غلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ میں ہاتھ ڈالا تو اسے گیلا پایا تو فرمایا: ”جو ہم سے دھوکا کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں“
وضاحت:
➊ ایک روایت میں ہے اس آدمی نے عرض کی کہ غلے پر بارش پڑ گئی تھی جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے بھیگے ہوئے غلے کو اوپر کیوں نہ کیا تاکہ لوگ اس کا مشاہدہ کر لیتے۔ [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 102]
➋ بیع میں دھوکے کی مختلف صورتیں ہیں عیب چھپا لینا، ردی مال کی ملاوٹ کر لینا، گھٹیا مال پیکنگ میں اس طرح بند کرنا کہ عیب عیاں نہ ہو یا کھول کر چیک نہ کیا جا سکتا ہو ایسا کاروبار حرام اور ناجائز ہے۔
➌ «ليس منا من غشنا» سے مقصد وعید شدید ہے یعنی کبیرہ گناہ ہے، ان الفاظ سے نہ تو دائرہ اسلام سے خارج متصور کرنا چاہیے اور نہ ہی ان الفاظ کی ایسی نرم تاویل پیش کرنی چاہیے کہ الفاظ کی شدت ختم ہو جائے بلکہ جیسے الفاظ وارد ہوئے ہیں ایسے ہی استعمال کرنے چاہئیں۔
➋ بیع میں دھوکے کی مختلف صورتیں ہیں عیب چھپا لینا، ردی مال کی ملاوٹ کر لینا، گھٹیا مال پیکنگ میں اس طرح بند کرنا کہ عیب عیاں نہ ہو یا کھول کر چیک نہ کیا جا سکتا ہو ایسا کاروبار حرام اور ناجائز ہے۔
➌ «ليس منا من غشنا» سے مقصد وعید شدید ہے یعنی کبیرہ گناہ ہے، ان الفاظ سے نہ تو دائرہ اسلام سے خارج متصور کرنا چاہیے اور نہ ہی ان الفاظ کی ایسی نرم تاویل پیش کرنی چاہیے کہ الفاظ کی شدت ختم ہو جائے بلکہ جیسے الفاظ وارد ہوئے ہیں ایسے ہی استعمال کرنے چاہئیں۔