السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 265
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت زانیہ کی اجرت اور کاہن کی شرینی کھانے سے منع فرمایا۔
وضاحت:
➊ عرب میں بھی اسلام سے قبل پیری فقیری کے دھندے بہت تھے کہانت ان ہی کی ایک قسم ہے جس میں ایک کاہن آئندہ رونما ہونے والے امور سے متعلق دعوے کر کے کمائی کرتا ہے۔ کہانت اور اس سے ملتے جلتے امور سے حاصل کی گئی کمائی حرام ہے۔ یہ سب حرام خوری ہے۔
➋ کتوں کی تجارت بھی حرام ہے چاہے کتا شکاری ہو یا شوقیہ رکھا گیا ہو۔
➌ زانیہ کی آمدنی یا ان کو لائسنس جاری کر کے ٹیکس وصول کرنا یا رنڈیوں کا کاروبار سب حرام خوری ہے۔
➍ غیب کے دعویداروں کے جنات و شیاطین سے روابط ہوتے ہیں جو آدمی کے شیطان سے پوچھ لیتے ہیں کہ یہ بندہ کس کام آیا ہے اور گھر کے دروازے کتنے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ پھر کاہن اپنے شیطان سے پوچھ کر لوگوں کو بتاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس جادوگر کو پہنچی ہوئی سرکار متصور کر لیتے ہیں اور اس پر تحائف نچھاور کرتے ہیں اسلام نے ان سب کمائیوں سے منع کر دیا ہے۔ ایسی کمائیاں کرنا کرانا، سبب بننا یا کسی طور اعانت کرنا حرام ہے اور اکثر لوگ ان کے سبب شرکیات میں مبتلا ہو کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من أتى عرافا فسأله عن شئ لم تقبل له صلاة أربعين ليلة» جو غیب کی خبریں بتانے کے دعویدار کے پاس آیا اور اس سے کچھ پوچھا تو اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2230]
➋ کتوں کی تجارت بھی حرام ہے چاہے کتا شکاری ہو یا شوقیہ رکھا گیا ہو۔
➌ زانیہ کی آمدنی یا ان کو لائسنس جاری کر کے ٹیکس وصول کرنا یا رنڈیوں کا کاروبار سب حرام خوری ہے۔
➍ غیب کے دعویداروں کے جنات و شیاطین سے روابط ہوتے ہیں جو آدمی کے شیطان سے پوچھ لیتے ہیں کہ یہ بندہ کس کام آیا ہے اور گھر کے دروازے کتنے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ پھر کاہن اپنے شیطان سے پوچھ کر لوگوں کو بتاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس جادوگر کو پہنچی ہوئی سرکار متصور کر لیتے ہیں اور اس پر تحائف نچھاور کرتے ہیں اسلام نے ان سب کمائیوں سے منع کر دیا ہے۔ ایسی کمائیاں کرنا کرانا، سبب بننا یا کسی طور اعانت کرنا حرام ہے اور اکثر لوگ ان کے سبب شرکیات میں مبتلا ہو کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من أتى عرافا فسأله عن شئ لم تقبل له صلاة أربعين ليلة» جو غیب کی خبریں بتانے کے دعویدار کے پاس آیا اور اس سے کچھ پوچھا تو اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2230]