حدیث نمبر: 263
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا خَلْفَ الْمَقَامِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَنَظَرَ سَاعَةً ثُمَّ ضَحِكَ ، ثُمَّ قَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا فَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ " .
نوید مجید طیب

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے بیٹھے تھے تو سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا پھر دیر تک دیکھا پھر ہنسے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ فرمائے اُن پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے فروخت کر کے اُس کی قیمت کھانی شروع کر دی بے شک اللہ عزوجل جب کسی قوم پر کوئی چیز کھانا حرام کرتے ہیں تو اس کی قیمت بھی حرام کر دیتے ہیں۔“

وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار، شراب، سور، بتوں کی خرید و فروخت سے منع فرمایا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے مردار کی چربی سے استفادہ کرنے کا دریافت کیا کہ ہم کشتیوں پر ملتے ہیں، کھالوں پر تیل ملتے اور چراغ جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں وہ حرام ہیں۔ [صحیح بخاری، رقم الحدیث: 2236]
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کا مذکورہ واقعہ بیان فرمایا۔
➋ اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کی ہیئت اور نام کی تبدیلی سے حکم تبدیل نہیں ہوتا۔
➌ دور حاضر میں سود اور جوئے کے مختلف نام رکھ کر جواز کے فتاوی دینا سراسر جہالت ہے پرائس بانڈ، جوبلی اسٹیٹ لائف، تکافل سب سود اور جوئے کی مختلف شکلیں ہیں، نام کی تبدیلی سے حکم تبدیل نہیں ہوسکتا۔ بینک کا نام اسلامی بینک یا مسلم کمرشل بینک رکھ لینے سے وہ مسلمان نہیں ہو جاتے جب تک ان کو سود سے خلاصی نہ ملے۔
بدلنا ہے اگر تو رندوں سے کہو کہ اپنا چلن بدلیں
فقط ساقی بدل جانے سے مے خانہ نہ بدلے گا
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 263
تخریج حدیث سنن ابی داؤد باب فى ثمن الخمر والميتة رقم : 3488 وقال الالبانی صحیح، مسند احمد : 95/4، رقم : 2221 وقال الارنوؤط صحیح