السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 262
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَعَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا ، فَقَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ ! أَلَمْ يَعْلَمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ أَنْ يَأْكُلُوهَا فَجَمَّلُوهَا فَبَاعُوهَا " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : فَجَمَّلُوهَا يَعْنِي أَذَابُوهَا .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک خبر پہنچی کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب فروخت کی ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ سمرہ رضی اللہ عنہ کو ہلاک کرے کیا وہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ لعنت کرے یہود پر اُن پر چربی حرام کی گئی کہ نہ کھانا انہوں نے اسے پگھلایا پھر فروخت کر دیا۔“
وضاحت:
➊ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی ہیں جو کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے گورنر تھے ذمیوں سے ٹیکس اکٹھا کرتے تھے کہا جاتا ہے کہ ایک ذمی نے بطور ٹیکس شراب دی تو انہوں نے دوسرے ذمی کو دے کر قیمت وصول کر لی کیونکہ انہیں مسئلے کا پتہ نہ تھا کہ جو چیز استعمال میں نہ لائی جاتی ہو اس کا فروخت کرنا بھی منع ہے۔ [بخاري: 2223]
➋ امام خطابی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب کا سرکہ بنا کر فروخت کیا جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سرکہ کو بھی حرام سمجھتے تھے۔
➌ صحابہ میں سمرہ نام کے دو صحابی ہیں ایک سمرہ بن جنادہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ جن کا ذکر اس حدیث میں ہے۔
➍ اس سے ثابت ہوا حیلہ بازی سے حرام حلال نہیں ہو جاتا یہود پر چربی حرام تھی انہوں نے پگھلا کر اس کا نام "ودک" رکھ کر فروخت کرنا شروع کر دی حیلہ بازی کے باعث ان پر لعنت کی گئی۔ علامات قیامت میں سے ہے کہ اشیاء کے نام بدل کر حلال سمجھیں گے حالانکہ حیلہ بازی سے جرم کی نوعیت مزید سنگین ہو جاتی ہے۔
➎ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ خشخاش یا ہیروئن کاشت کرے کہ غیر مسلم کو فروخت کروں گا۔ کوفیوں کے حیلے کہ زکاۃ پر سال پورا ہونے لگے بیوی کو مال گفٹ کر دے زکاۃ کا ماہ گزر جائے بیوی واپس کر دے زکاۃ سے بچ جائیں گے یہ اور اس طرح کے سب امور حرام اور بنی اسرائیل کی روش ہے اللہ رب العزت ہمیں محفوظ رکھے۔
➏ شراب سے متعلق ہر قسم کا کاروبار مسلمان پر حرام ہے شراب کے پرمٹ لائسنس کے اجراء کی فیس سب حرام ہیں۔
➐ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول «قاتل الله» سے مراد لعنت کرنا نہیں بلکہ اظہار غضب ہے کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فہیم آدمی اس معاملے میں لاعلم ہے۔
➑ بڑے چھوٹوں کی غلطیوں پر سخت الفاظ سے تنبیہ کر سکتے ہیں۔
➋ امام خطابی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب کا سرکہ بنا کر فروخت کیا جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سرکہ کو بھی حرام سمجھتے تھے۔
➌ صحابہ میں سمرہ نام کے دو صحابی ہیں ایک سمرہ بن جنادہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ جن کا ذکر اس حدیث میں ہے۔
➍ اس سے ثابت ہوا حیلہ بازی سے حرام حلال نہیں ہو جاتا یہود پر چربی حرام تھی انہوں نے پگھلا کر اس کا نام "ودک" رکھ کر فروخت کرنا شروع کر دی حیلہ بازی کے باعث ان پر لعنت کی گئی۔ علامات قیامت میں سے ہے کہ اشیاء کے نام بدل کر حلال سمجھیں گے حالانکہ حیلہ بازی سے جرم کی نوعیت مزید سنگین ہو جاتی ہے۔
➎ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ خشخاش یا ہیروئن کاشت کرے کہ غیر مسلم کو فروخت کروں گا۔ کوفیوں کے حیلے کہ زکاۃ پر سال پورا ہونے لگے بیوی کو مال گفٹ کر دے زکاۃ کا ماہ گزر جائے بیوی واپس کر دے زکاۃ سے بچ جائیں گے یہ اور اس طرح کے سب امور حرام اور بنی اسرائیل کی روش ہے اللہ رب العزت ہمیں محفوظ رکھے۔
➏ شراب سے متعلق ہر قسم کا کاروبار مسلمان پر حرام ہے شراب کے پرمٹ لائسنس کے اجراء کی فیس سب حرام ہیں۔
➐ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول «قاتل الله» سے مراد لعنت کرنا نہیں بلکہ اظہار غضب ہے کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فہیم آدمی اس معاملے میں لاعلم ہے۔
➑ بڑے چھوٹوں کی غلطیوں پر سخت الفاظ سے تنبیہ کر سکتے ہیں۔