حدیث نمبر: 258
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلا أَنَّهُ قَالَ : " رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لا سَمْرَاءَ " .
نوید مجید طیب

محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے بھی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کیا لیکن اتنا اضافہ ہے کہ ”گندم نہیں بلکہ ایک صاع کھجور دے۔“

وضاحت:
➊ ایک روایت کی تفصیل یہ ہے کہ جس شخص نے ایسا جانور خریدا اسے تین دن تک اختیار رہتا ہے۔ کیونکہ اتنے دنوں میں اصل دودھ کا پتہ چل جاتا ہے اور دھوکا واضح ہو جاتا ہے۔
➋ گندم چونکہ عرب میں مہنگی اور کھجور سستی تھی اس لیے مہنگی کی قید نہیں لگائی جبکہ ہمارے ہاں کھجور مہنگی گندم سستی ہے گندم یا چاول اگر عام خوراک ہے تو وہ دی جائے گی۔
➌ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی رائے میں گندم کے صاع کی قیمت بھی دی جا سکتی ہے۔
➍ ایک صاع غلہ ساتھ دینا اخلاقی بنیاد پر ہے بائع ناراضگی محسوس نہ کرے تحفہ دلوں کو نرم کرتا ہے محبت بڑھاتا ہے اور تجارت کو منقطع نہیں کرتا۔
➎ جو لوگ صاع کا متبادل تلاش کرنے میں پڑ گئے ہیں کہ یہ پہلے دن کے دودھ کا عوض ہے۔ دودھ زیادہ تھا یا کم یہ سعی لا حاصل ہے ظاہر ہے جب جانور خریدا قیمت دی تو دودھ بھی تو ساتھ ہی خریدا تھا پھر چارہ وغیرہ بھی تو ڈالا ساتھ لے جانے واپس لانے میں بھی تو مشقت اٹھائی اور بسا اوقات گاڑی کا کرایہ بھی برداشت کیا منڈی کی رسید بھی خریدی شریعت کے احکام مستقل اور تا قیامت ہیں اس لیے محض عقلی گھوڑے دوڑانا اور راوی حدیث پر جرح شروع کر دینا کم عقلی کے سوا کچھ نہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 258
تخریج حدیث صحیح مسلم، البيوع، باب حكم بيع المصراة، رقم: 1524