السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 257
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلا تُصَرُّوا الإِبِلَ وَلا الْغَنَمَ لِلْبَيْعِ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلِبَهَا إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹنی یا بکری کو فروخت کرنے کے لیے دودھ تھن میں نہ روکو جس نے ایسا جانور خریدا تو دودھ نکال لینے کے بعد اسے دو باتوں کا اختیار ہے اگر اس بیع سے راضی ہے تو روک لے اگر ناراض ہے تو جانور واپس کر دے اور ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے۔“
وضاحت:
➊ بیع المصراۃ یا حدیث المصراۃ کے نام سے یہ حدیث مشہور ہے، اس حدیث میں دلیل ہے کہ عیب دار چیز بسبب عیب جو بائع نے مخفی رکھا ظاہر ہونے پر سودا منسوخ ہوگا۔
➋ جانوروں کا دودھ روکنے کا مقصد گاہک کو دھوکا دینا ہے کہ جانور بہت دودھ دینے والا ہے اسی حساب سے قیمت لگاتا ہے خریدار خریدنے کے بعد تین دن جانور چیک کر سکتا ہے دودھ آزما سکتا ہے اگر پسند ہے تو روک لے اگر پسند نہ آئے تو واپس کرے اور ساتھ ایک صاع کھجور یا جو بھی مواد غذائیہ ہو دے تاکہ جانور سے استفادے کا ازالہ ہو سکے اور مسلمانوں میں صلہ رحمی قائم رہے۔
➌ بعض الناس کا اس حدیث کو خود ساختہ فقہی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس حدیث پر عمل نہ کرنا یا اسے منسوخ قرار دینا درست نہیں۔
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
➍ حدیث کے راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو غیر فقیہ قرار دینا اور یہ کہنا کہ اگر کوئی غیر فقیہ راوی قیاس کے خلاف حدیث بیان کرے تو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا سراسر نا انصافی اور ظلم ہے۔
➋ جانوروں کا دودھ روکنے کا مقصد گاہک کو دھوکا دینا ہے کہ جانور بہت دودھ دینے والا ہے اسی حساب سے قیمت لگاتا ہے خریدار خریدنے کے بعد تین دن جانور چیک کر سکتا ہے دودھ آزما سکتا ہے اگر پسند ہے تو روک لے اگر پسند نہ آئے تو واپس کرے اور ساتھ ایک صاع کھجور یا جو بھی مواد غذائیہ ہو دے تاکہ جانور سے استفادے کا ازالہ ہو سکے اور مسلمانوں میں صلہ رحمی قائم رہے۔
➌ بعض الناس کا اس حدیث کو خود ساختہ فقہی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس حدیث پر عمل نہ کرنا یا اسے منسوخ قرار دینا درست نہیں۔
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
➍ حدیث کے راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو غیر فقیہ قرار دینا اور یہ کہنا کہ اگر کوئی غیر فقیہ راوی قیاس کے خلاف حدیث بیان کرے تو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا سراسر نا انصافی اور ظلم ہے۔