السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 259
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلا تُصَرُّوا الإِبِلَ وَلا الْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلِبَهَا إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اونٹنی، بکری کا دودھ تھن میں نہ روکو، جس نے ایسا جانور خریدا وہ دودھ دوھنے کے بعد دونوں اختیار رکھتا ہے اگر سودے سے راضی ہے تو رکھ لے اگر راضی نہیں تو واپس کرے ساتھ کھجور کا ایک صاع بھی دے دے۔“
وضاحت:
دودھ روکنے سے منع کیا گیا ہے دھوکا حرام ہے اور اس سے جانور کو بھی تکلیف ہوتی ہے جو حرام ہے، ایسے سودے میں برکت اٹھ جاتی ہے جو مبنی بر دھوکا ہو۔