السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 256
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہری دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے۔“
وضاحت:
➊ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ حدیث کی وضاحت طلب کی گئی تو انہوں نے فرمایا: «لا يكون له سمساراً» کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے دلال نہ بنے۔ [صحیح بخاری، رقم الحدیث: 2158، صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1521]
➋ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ ایک اجنبی آدمی دیہات سے یا دوسرے شہر سے ایسا سامان جس کی سبھی کو ضرورت ہے اس روز کے نرخ کے مطابق فروخت کرنے کے لیے لاتا ہے اور شہری اسے کہتا ہے اس کو میرے پاس چھوڑ دو تاکہ میں اسے بتدریج اعلیٰ نرخ پر بیچوں۔ [شرح مسلم: 164/10]
➌ شہری اور دیہاتی ہر ایک کو آزادانہ تجارت کا حق حاصل ہے۔
➍ لوگوں کے لین دین کے معاملات میں مداخلت جائز نہیں۔
➎ اس حدیث کے ذریعے ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت پیدا کرنے کے رجحان کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔
➏ لوگوں کو ایک دوسرے سے رزق ملتا ہے لہذا تجارت آزاد رہنی چاہیے تاکہ اشیائے ضرورت ہر بندے تک آسانی سے پہنچتی رہیں۔
➋ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ ایک اجنبی آدمی دیہات سے یا دوسرے شہر سے ایسا سامان جس کی سبھی کو ضرورت ہے اس روز کے نرخ کے مطابق فروخت کرنے کے لیے لاتا ہے اور شہری اسے کہتا ہے اس کو میرے پاس چھوڑ دو تاکہ میں اسے بتدریج اعلیٰ نرخ پر بیچوں۔ [شرح مسلم: 164/10]
➌ شہری اور دیہاتی ہر ایک کو آزادانہ تجارت کا حق حاصل ہے۔
➍ لوگوں کے لین دین کے معاملات میں مداخلت جائز نہیں۔
➎ اس حدیث کے ذریعے ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت پیدا کرنے کے رجحان کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔
➏ لوگوں کو ایک دوسرے سے رزق ملتا ہے لہذا تجارت آزاد رہنی چاہیے تاکہ اشیائے ضرورت ہر بندے تک آسانی سے پہنچتی رہیں۔