السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 240
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَلَقَّوَا الرُّكْبَانَ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجارتی قافلوں کو منڈی سے باہر جا کر نہ ملو“
وضاحت:
➊ مال کے متعلقہ منڈی میں پہنچنے سے پہلے اس کو خریدنا درست نہیں۔ کیونکہ ایک تو باہر سے آنے والے کو بازار کا بھاؤ پتہ نہیں ہوتا اس سے سستے دام خرید کر اس کا نقصان کرنا نامناسب ہے۔ دوسرا اس حرکت سے مہنگائی بڑھ جاتی ہے ذخیرہ اندوزی اور منڈی پر اجارہ داری بھی پروان چڑھتی ہے۔ باہر سے آنے والا بسا اوقات جاتے ہوئے عوام کو سستا سامان فروخت کر جاتا ہے جس سے غریب بھی استفادہ کرتے ہیں۔
➋ اسلام نہیں چاہتا کہ تاجر مسلمانوں کی منڈیوں سے واپس جائیں تو دلوں میں حسرت بغض اور نفرت لے کر جائیں اسلام ہر ایک کو معاشی آزادی دیتا ہے چاہے کافر ہو۔ اگر مسلمان حکمران ان سنہری اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہوں تو مہنگائی کو کنٹرول کر سکتے ہیں معیشت کے ڈوبتے بیڑے کا واحد سہارا اسلامی اصول تجارت ہی ہے۔
➋ اسلام نہیں چاہتا کہ تاجر مسلمانوں کی منڈیوں سے واپس جائیں تو دلوں میں حسرت بغض اور نفرت لے کر جائیں اسلام ہر ایک کو معاشی آزادی دیتا ہے چاہے کافر ہو۔ اگر مسلمان حکمران ان سنہری اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہوں تو مہنگائی کو کنٹرول کر سکتے ہیں معیشت کے ڈوبتے بیڑے کا واحد سہارا اسلامی اصول تجارت ہی ہے۔