السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 241
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَلَقَّوَا الرُّكْبَانَ بِالْبَيْعِ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سودے کرنے کے لیے تجارتی قافلوں کو راستے میں ہی اپروچ نہ کر لو۔
وضاحت:
اگر کوئی آدمی منڈی میں مال پہنچنے سے پیشتر سودا کر لے تو بائع کو سودا فسخ کرنے کا اختیار ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا تلقوا الجلب فمن تلقى فاشترى منه فاذا اتى سيده السوق فهو بالخيار» باہر سے شہر غلہ لانے والوں کو آگے جا کر نہ ملو اور جو کوئی آگے جا کر ملاقات کر کے مال خرید لے اور مال کا مالک بعد میں منڈی میں آئے تو اسے سودا فسخ کرنے کا اختیار ہے۔ [صحيح مسلم: 1519]