حدیث نمبر: 239
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا ، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ ، قَالَ أَبُو رَافِعٍ : فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي لا أَجِدُ فِي الإِبِلِ إِلا جَمَلا خِيَارًا رَبَاعِيًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطِهِ إِيَّاهُ ؛ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض پر لیا جب صدقے کے اونٹ آئے تو سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس آدمی کا قرض اداء کر دو۔“ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی اونٹوں میں اس طرح کا کوئی (نوعمر) نہیں مگر چوگا ساتویں سال کا اچھا اونٹ ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہی دے دو لوگوں میں بہتر وہ ہے جو ادائیگی میں بہتر ہو۔“

وضاحت:
➊ قرض واپس کرتے ہوئے اگر احسان کرتے ہوئے خود زیادہ یا عمدہ واپس کر دیا جائے تو جائز ہے جبکہ ابتداء میں اضافہ کی شرط لگانا اسی طرح قرض خواہ کا زیادہ مطالبہ کرنا سود ہے۔
➋ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرض کی ادائیگی میں وکیل مقرر کرنا درست ہے۔
➌ جانور قرض لیا جا سکتا ہے اگر ہو بہو جانور لوٹانا ممکن ہو تو بہتر جانور واپس کرنا چاہیے۔
➍ جانور کا قرض ادھار درست ہے لیکن جانور کی بیع جانور کے ساتھ ہو تو ادھار حرام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کے بدلے حیوان کی ادھار بیع سے منع فرمایا۔ [سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 3356]
➎ حیوان کی بیع حیوان کے ساتھ نقد ہو تو کمی و بیشی درست ہے ایک بکری کے عوض دو چھوٹی بکریاں لینا جائز ہے۔ اس طرح بیع اور قرض کے حکم میں فرق ہے، عام طور پر گاؤں میں آلو، ماچس یا کوئی بھی گھریلو چیز ختم ہو جائے تو عورتیں پڑوس سے ادھار مانگ لاتی ہیں کہ جب ہم لائیں گے واپس کر دیں گے اور واپسی ظاہر ہے کمی پیشی کے ساتھ کرتی ہیں تو اگر یہ بیع ہوتی تو ادھار پر بیع حرام ہوتی کیونکہ جنس ایک ہے لیکن قرض تھا تو بوجہ ضرورت جائز ہے۔ تجارت میں ادھار صرف اس صورت منع ہے جب عوض میں وہی جنس دینی ہے اگر روپے واپس کرنے ہیں تو پھر ادھار تجارت بھی جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام دو کالے غلاموں کے بدلے خریدا۔ [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1602]
➏ تمام حیوانات کا یہی حکم ہے جبکہ غلہ، اشیاء خوردنی اور سونے چاندی میں کمی و بیشی سے منع کیا، لیکن نقد بنقد کی دونوں میں شرط ہے، نقد بنقد کی صرف اس وقت شرط نہیں جب خریدار اشیاء کے بدلے کرنسی ادا کرے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 239
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساقاة، باب من استسلف شيئًا فقضى خيرا منه رقم 1600