السنن المأثورة
ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر— بارش کی صورت میں نمازیں جمع کرنے کا بیان
ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر باب: بارش کی صورت میں نمازیں جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 24
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا , وَسَبْعًا جَمِيعًا , قُلْتُ : لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَرَادَ أَنْ لا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعات اور سات رکعات (جمع کر کے) پڑھیں راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”ایسا کیوں کیا تھا؟“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا ”تا کہ امت کے لیے آسانی رہے۔“
وضاحت:
➊ اس باب میں حضر میں نمازیں جمع کرنے کا تذکرہ کیا گیا ہے، خلاصۃ القول یہ ہے کہ علماء کا ایک بڑا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ بغیر عذر کے نمازوں کو جمع نہیں کیا جا سکتا یعنی حضر میں مقیم آدمی جمع نہیں کر سکتا اور جو شرعی عذر ہیں وہ دشمن کا خوف، بارش یا پھر سفر ہے، ان حضرات نے مذکورہ احادیث کے بارے میں کہا ہے کہ یہ جمع صوری ہے یعنی ظہر مؤخر کر کے آخری وقت اور عصر اپنے پہلے وقت میں ادا کی گئی ہے اسی طرح مغرب و عشاء کا معاملہ ہے اور بعض نے جب یہ دیکھا کہ جمع صوری ہوتی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ بیان کرتے جبکہ یہ اصطلاح صوری نکلی ہی کوفہ سے ہے انہوں نے کہا شاید بیماری تھکاوٹ وغیرہ کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کی ہیں جس نے بغیر عذر کے کہا وہ اس لیے کہ عام طور پر عذر بارش، سفر اور خوف ہی ہے جب یہ تینوں عذر نہیں تھے تو بغیر عذر کے الفاظ سے تعبیر کر دیا ہے۔ جبکہ دوسرا اہل علم کا گروہ جس میں بڑے بڑے ائمہ شامل ہیں ان کی رائے یہ ہے کہ حدیث کے ظاہر کو بلا چوں چراں تسلیم کیا جائے یعنی بغیر بارش، خوف، سفر کے بھی جمع بین الصلاتین جائز ہے بشرطیکہ اس کو معمول نہ بنا لیا جائے۔
➋ دلائل کی رو سے دوسرا موقف درست ہے کیونکہ اس کی وضاحت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خود فرمائی کہ امت کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے اس وضاحت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مریض، تھکا ہوا، سفر سے واپس لوٹنے والا، طالب علم جو امتحانی کمرے میں جانے والا ہے جب نماز کے ضیاع کا خدشہ ہے تو حضر میں ہی جمع کر لے دین میں آسانی ان جیسے ہی مواقع پر کام آئے گی۔
➌ بعض حضرات نے جمع صوری پر کمر کسی وہ اس لیے نہیں کہ فہم حدیث میں بہت بڑا ملکہ حاصل کر گئے ہیں بلکہ محض اس لیے کہ ان کے دین میں جمع صرف اور صرف مزدلفہ میں ہے باقی سب جمع صوری ہے حقیقی نہیں۔ اتنی آسانیوں کو بھی جو ختم کر کے دعوی کرے کہ فقہ النوازل کا حل صرف فقہ حنفی میں ہے وہ مخطی ہے بلکہ ان چرواہوں کی مانند ہے جن کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تھی تو باہر نکال دیے گئے اسی طرح احادیث میں تاویلات کرنے والے کو فہم الحدیث کی آب و ہوا موافق نہیں آتی تو تنگ نظر متعصب مقلد بن کر رہ جاتا ہے اور یہ سزا علمی میدان کی سب سے بڑی سزا ہے۔
عقل سے جب گتھیاں اسلام کی سلجھاتا ہوں میں
اپنے ہی دامن کے تاروں میں الجھ جاتا ہوں میں
➍ حدیث میں ہے کہ آٹھ رکعات یعنی ظہر و عصر جمع کر کے پڑھی اور سات رکعات یعنی مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھی۔ اگر جمع صوری ہوتی تو بڑے بڑے ائمہ کو وضاحتیں نہ کرنی پڑتیں کہ شاید بارش ہو جیسے امام مالک رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ شاید بارش کے باعث ایسا کیا ہے۔ کسی نے کہا شاید بیماری ہو، صوری تو سیدھی سیدھی ہے کہ ہر نماز اپنے اپنے وقت کے اندر ادا ہوئی ہے ایک نماز آخری وقت میں دوسری نماز پہلے وقت میں لیکن فہم الحدیث ایک دوسری شے ہے جسے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سمجھا کہ بھائی امت کو مشقت سے بچانا ہے لیکن معمول بنا کر شعائر اسلام کو معطل بھی نہیں کرنا جیسے روافض کا طرز عمل ہے۔
➎ متاخرین کی عادت شریفہ ہے کہ اپنے مسلک کی حمایت کے لیے فوراً اجماع کا دعوی کر بیٹھتے ہیں جبکہ خود اختلاف نقل بھی کرتے ہیں اس کے باوجود کہتے ہیں اس پر اجماع ہے۔ اسی مسئلے میں امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اتنے اماموں کا اختلاف موجود ہونے پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نمازیں جمع کرنا بالاجماع ناجائز ہے۔
➋ دلائل کی رو سے دوسرا موقف درست ہے کیونکہ اس کی وضاحت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خود فرمائی کہ امت کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے اس وضاحت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مریض، تھکا ہوا، سفر سے واپس لوٹنے والا، طالب علم جو امتحانی کمرے میں جانے والا ہے جب نماز کے ضیاع کا خدشہ ہے تو حضر میں ہی جمع کر لے دین میں آسانی ان جیسے ہی مواقع پر کام آئے گی۔
➌ بعض حضرات نے جمع صوری پر کمر کسی وہ اس لیے نہیں کہ فہم حدیث میں بہت بڑا ملکہ حاصل کر گئے ہیں بلکہ محض اس لیے کہ ان کے دین میں جمع صرف اور صرف مزدلفہ میں ہے باقی سب جمع صوری ہے حقیقی نہیں۔ اتنی آسانیوں کو بھی جو ختم کر کے دعوی کرے کہ فقہ النوازل کا حل صرف فقہ حنفی میں ہے وہ مخطی ہے بلکہ ان چرواہوں کی مانند ہے جن کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تھی تو باہر نکال دیے گئے اسی طرح احادیث میں تاویلات کرنے والے کو فہم الحدیث کی آب و ہوا موافق نہیں آتی تو تنگ نظر متعصب مقلد بن کر رہ جاتا ہے اور یہ سزا علمی میدان کی سب سے بڑی سزا ہے۔
عقل سے جب گتھیاں اسلام کی سلجھاتا ہوں میں
اپنے ہی دامن کے تاروں میں الجھ جاتا ہوں میں
➍ حدیث میں ہے کہ آٹھ رکعات یعنی ظہر و عصر جمع کر کے پڑھی اور سات رکعات یعنی مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھی۔ اگر جمع صوری ہوتی تو بڑے بڑے ائمہ کو وضاحتیں نہ کرنی پڑتیں کہ شاید بارش ہو جیسے امام مالک رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ شاید بارش کے باعث ایسا کیا ہے۔ کسی نے کہا شاید بیماری ہو، صوری تو سیدھی سیدھی ہے کہ ہر نماز اپنے اپنے وقت کے اندر ادا ہوئی ہے ایک نماز آخری وقت میں دوسری نماز پہلے وقت میں لیکن فہم الحدیث ایک دوسری شے ہے جسے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سمجھا کہ بھائی امت کو مشقت سے بچانا ہے لیکن معمول بنا کر شعائر اسلام کو معطل بھی نہیں کرنا جیسے روافض کا طرز عمل ہے۔
➎ متاخرین کی عادت شریفہ ہے کہ اپنے مسلک کی حمایت کے لیے فوراً اجماع کا دعوی کر بیٹھتے ہیں جبکہ خود اختلاف نقل بھی کرتے ہیں اس کے باوجود کہتے ہیں اس پر اجماع ہے۔ اسی مسئلے میں امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اتنے اماموں کا اختلاف موجود ہونے پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نمازیں جمع کرنا بالاجماع ناجائز ہے۔