السنن المأثورة
ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر— بارش کی صورت میں نمازیں جمع کرنے کا بیان
ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر باب: بارش کی صورت میں نمازیں جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 23
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا " . قَالَ : قُلْتُ لأَبِي الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ , وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ , قَالَ : وَأَنَا أَظُنُّ ذَلِكَ .نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں رہ کر آٹھ رکعات اکٹھی اور سات رکعات اکٹھی پڑھیں راوی کہتے ہیں میں نے ابو الشعثاء سے کہا: ”میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر مؤخر اور عصر متقبل کی اور اسی طرح مغرب مؤخر اور عشاء متجل کی؟“ ابو الشعثاء نے کہا: ”میرا بھی یہی خیال ہے۔“