حدیث نمبر: 25
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، مَوْلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , أَنَّهُ قَالَ : أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا , قَالَتْ : إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الآيَةَ فَآذِنِّي : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 ، قَالَ : فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا , فَأَمْلَتْ عَلَيَّ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَصَلاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ قَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نوید مجید طیب

ابو یونس رحمہ اللہ مولی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ میں مصحف قرآنی کا نسخہ لکھوں اور فرمایا: جب اس آیت پر پہنچو ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى﴾ [سورة البقرة: 238] تو مجھے بتانا ابو یونس رحمہ اللہ کہتے ہیں میں جب اس آیت پر پہنچا تو انہیں بتایا تو مجھے ام المومنین رضی اللہ عنہا نے (یہ بھی) املاء کروایا «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» اور فرمایا: میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔

وضاحت:
➊ صلاة العصر یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے «والصلاة الوسطى» کی تفسیر لکھوائی تھی، یہ الفاظ قرآنی نہیں بلکہ الفاظ قرآنی کی تفسیر ہے کیونکہ «والصلاة الوسطى» کا مطلب ہے افضل نماز اور افضل نماز عصر کی نماز ہے جب کاروبار عروج پر ہوتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اللہ کی طرف آنا پڑتا ہے الوسطى کی تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر سے کی، نمازوں کی حفاظت کرو اور خصوصاً نماز عصر کی، یہ آیت نماز عصر کی افضلیت پر دلیل ہے۔
«الوسطى» کا مطلب افضل نماز ہے نہ کہ درمیانی کیونکہ اگر اس کا معنی درمیانی نماز کیا جائے تو پھر ہر نماز درمیانی بن جاتی ہے مثلاً: نماز فجر سے پہلے دو جہری نمازیں ہیں اور بعد میں دوسری نمازیں ہیں لہذا نماز فجر درمیانی ہوئی۔ نماز ظہر دن کے درمیان میں ہے اس حساب سے درمیانی ہوئی۔ نماز مغرب تین رکعات ہے جو چار رکعات اور دو رکعات والی نمازوں کی درمیانی تعداد کے اعتبار سے ہے۔ نماز عشاء دو جہری نمازوں مغرب اور فجر کے درمیان میں ہے لہذا «الوسطى» سے مراد افضل نماز ہے۔ عصر کی فضیلت درمیانی ہونا نہیں بلکہ افضل ہونا ہے۔
➌ اس حدیث میں ان کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ حدیث مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں لکھی گئی بعد میں عجمیوں نے لکھی ہے حالانکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں لکھو اور میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
➍ معلوم ہوا حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی مبین و مفسر ہے اور فہم قرآن کے لیے حدیث از بس ضروری ہے۔
اصل دیں آمد کلام اللہ معظم داشتن
پس حدیث مصطفی بر جاں مسلم داشتن
حوالہ حدیث السنن المأثورة / ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر / حدیث: 25
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة باب الدلیل لمن قال: الصلاة الوسطی ہی صلاة العصر، رقم: 629