حدیث نمبر: 238
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قرض کی ادائیگی میں مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی قرض خواہ کو کسی مالدار شخص کے پیچھے لگایا جائے (کہ اس سے وصول کر لو) تو اس کے پیچھے لگ جانا چاہیے۔“

وضاحت:
➊ ایک آدمی نے قرض دینا ہے لیکن استطاعت نہیں رکھتا کوئی تیسرا آدمی کہتا ہے کہ میں اداء کر دوں گا تو قرض خواہ کو یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے، یا قرض خواہ کو مقروض کسی تیسرے آدمی کی طرف بھیجتا ہے کہ اُس سے وصولی کر لیں تو آدمی کو اس سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ اپنا حق جلد وصول کر لے اگر تیسرا آدمی انکار کرتا ہے تو پہلے آدمی سے ہی وصول کرے گا۔
➋ مالدار کا ٹال مٹول ظلم ہے جیسے ایک آدمی قرض لیتا ہے پھر واپس کرنے کی استطاعت بھی رکھتا ہے اس کے باوجود ٹال مٹول کرتا ہے تو یہ ظلم ہے اگر نادار بندہ ہے تو اس کا ٹال مٹول ظلم نہیں اسے مہلت دینی چاہیے اور نرمی برتنی چاہیے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جو قرض ادائیگی کی نیت سے لیتا ہے اللہ اس کی مدد کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اسے توفیق دیتا ہے یا مالی حالت بہتر کر دیتا ہے اللہ کی مدد سے قرض واپس ہو جاتا ہے۔ [سنن نسائی، رقم الحدیث: 4687]
اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ جو قرض اس نیت سے لیتا ہے کہ واپس نہیں کرے گا اللہ اسے قرض کی واپسی کی توفیق بھی نہیں دیتا نہ اس کی مدد کی جاتی ہے حتی کہ یہی قرض اس کو جہنم میں لے جائے گا۔ «العياذ بالله»
➍ قرض کا معاملہ بہت سخت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایک بندہ اللہ کے راستہ میں شہید کر دیا جائے پھر زندہ ہو پھر شہید پھر زندہ پھر شہید ہو جائے اور اس کے ذمے قرض واجب الاداء ہو تو (تین دفعہ شہادت کا مقام پانے والا) جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک کہ اس کی طرف سے قرض ادا نہ کر دیا جائے۔ [سنن نسائی، رقم الحدیث: 4684]
عام شہید شہادت کے ساتھ ہی جنت میں بغیر حساب پہنچ جاتا ہے لیکن قرض اسے بھی معاف نہیں جنت میں جانے میں قرض رکاوٹ ہے۔
➎ میت کے مال کو تقسیم کرنے سے قبل اس کی وصیت کو پورا کرنا اور اس کے ذمہ قرض کی ادائیگی لازم ہے پھر وراثت تقسیم ہوگی۔ [النساء: 12]
➏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقروض کا جنازہ نہ پڑھاتے تھے ایک میت پر تین دینار قرض تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صلوا على صاحبكم» تم اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔ [صحیح بخاری، رقم الحدیث: 2289]
یہ بظاہر معمولی سی رقم ہے لیکن اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا، جب رقم کی ادائیگی کا ذمہ لیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 238
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحوالات، باب في الحوالة وهل يرجع في الحوالة، رقم : 2287 ، صحیح مسلم ، المساقاة، باب تحريم مطل الغنى، رقم : 1564