السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 237
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ " .نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بائع ومشتری کا اختلاف ہو جائے تو بائع کے قول کا اعتبار ہوگا اور مشتری کو اختیار ہے۔“
وضاحت:
➊ لین دین میں اختلاف کا ہو جانا عین ممکن ہے۔ اگر بائع اور مشتری میں اختلاف واقع ہو جائے تو ایسی صورت میں بائع کے قول کو معتبر مانا جائے گا اور مشتری کو بیع نافذ کرنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہوگا۔
➋ سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیس ہزار میں کچھ غلام خریدے جو کہ خمس کے تھے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے قیمت لینے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا میں نے انہیں دس ہزار میں لیا ہے، سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا آپ خود ہی میرے اور اپنے درمیان فیصلہ کر دیں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا حدیث سنائی۔ [سنن ابي داود: 3511]
➋ سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیس ہزار میں کچھ غلام خریدے جو کہ خمس کے تھے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے قیمت لینے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا میں نے انہیں دس ہزار میں لیا ہے، سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا آپ خود ہی میرے اور اپنے درمیان فیصلہ کر دیں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا حدیث سنائی۔ [سنن ابي داود: 3511]