حدیث نمبر: 234
عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ : أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بِالْبَيْعِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ وَإِذَا كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ " . فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا بَاعَ الرَّجُلُ وَلَمْ يُخَيِّرْهُ فَأَرَادَ أَنْ لا يَقْبَلَهُ قَامَ فَمَشَى هُنَيْهَةً ثُمَّ رَجَعَ .
نوید مجید طیب

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب بیع کرنے والے آپس میں سودا کریں تو دونوں کو جدا ہونے تک بیع ختم کرنے کا اختیار ہے یا ان کی بیع میں خیار ختم کر دیا گیا ہو اگر ایسی بات ہے تو بیع پکی ہوگئی۔“ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی سے سودا کرتے خیار نہ دیا ہوتا تو چاہتے کہ وہ اقالہ یعنی بیع کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما تھوڑا سا چلتے پھر اس کے پاس واپس آجاتے۔

وضاحت:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما راوی حدیث کے عمل سے معلوم ہوا کہ اس حدیث میں خیار سے مراد مجلس کی تبدیلی ہے نہ کہ تبدیل کلام بعض کہتے ہیں کہ خیار سے مراد سودا کرتے ہوئے کلام میں خیار ہے یعنی کہے کہ بھائی میں نہیں لیتا، یا سودا کر کے اگر دائیں بائیں کی باتیں شروع کر دے تو بیع پکی ہے اب واپس نہیں کر سکتا جبکہ دلائل کا تقاضا ہے کہ جب تک مجلس تبدیل نہیں ہوتی بائع اور مشتری کو بیع کے نفاذ یا فسخ کا اختیار ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 234
تخریج حدیث صحیح مسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين، رقم: 1531