حدیث نمبر: 233
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْبَيِّعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَإِذَا كَانَ الْبَيْعُ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ " .
نوید مجید طیب

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا بائع اور خریدار ہر دو کو جدا ہونے سے قبل بیع ختم کرنے کا اختیار ہے یا ان کی بیع میں خیار ہوا اگر ایسی بات ہے تو بیع پکی ہوگئی۔

وضاحت:
جب تک بائع یا مشتری نے مجلس بیع تبدیل نہیں کی ہر ایک کو بیع ختم کرنے کا اختیار ہے اگر دوکان چھوڑ کر گاہک چلا گیا تو بیع پکی ہوگئی یا مجلس میں طے کر لیں کہ بیع پکی ہے ہمارا خیار ختم پھر بھی بیع پکی متصور ہو گی۔ اگر دونوں طے کر لیں کہ اتنی مدت تک ہمیں سوچنے کا اختیار ہوگا تو اُس مدت تک اختیار باقی رہے گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 233
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب اذا كان البائع بالخيار هل يجوز ...... الخ، رقم: 2113، صحیح مسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين، رقم: 1531