السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا ابْتَاعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلا بَيْعَ الْخِيَارِ وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب دو آدمی خرید و فروخت کریں تو دونوں کو جدا ہونے تک بیع ختم کرنے کا اختیار ہے مگر بیع خیار (اختیار ختم کرتا ہے یا اختیار کی مدت مقرر کر دیتا ہے اس کا حکم جدائی سے متعلق نہ ہوگا) اور دونوں اکٹھے رہیں (الا یہ کہ) ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو (بوقت بیع) اختیار دے دے اگر بیع کے وقت ہی ان دونوں نے ایک دوسرے کو اختیار دے دیا تو وہ اس پر سودا کر لیں تو بیع پکی ہوگئی اور اگر سودا کرنے کے بعد وہ ایک دوسرے سے جدا ہوئے اور اس وقت تک کسی نے بیع واپس نہیں کی تو بیع پکی ہوگئی (ناقابل واپسی ہے)“