حدیث نمبر: 232
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُلامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملامسہ اور منابذہ بیع سے منع فرمایا۔

وضاحت:
«ملامسه» اس بیع میں خریدار کپڑے کو بغیر دیکھے چھوتا ہے اور اس کے چھونے سے ہی بیع لازم ہو جاتی ہے۔
«منابذه» ایک آدمی اپنا کپڑا بیچنے کے لیے خریدار کی طرف پھینکتا ہے قبل اس سے کہ خریدار کپڑے کو الٹ پلٹ کر کے غور و فکر سے دیکھے محض پھینکنے سے بیع لازم ہو جاتی ہے۔
مذکورہ بالا دونوں بیوع میں چونکہ دھوکہ و فریب کا اندیشہ ہے اس لیے ان سے منع کیا گیا ہے نیز یہ دونوں طریقے خیار مجلس کے ابطال کا بھی باعث ہیں اس لیے یہ بیوع جائز نہیں۔
➋ یہ اور اس طرح کی دیگر بیوع جاہلیت کی بیوع ہیں دور حاضر پھر سے پہلی جاہلیت کی طرف پلٹ گیا ہے اور اس کو جہالت کے سبب ترقی اور معاشیات کے اصول سمجھ بیٹھا ہے حالانکہ صدیوں قبل تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم ان جعلی اور مبنی بر دھوکہ بیوع کو ختم کر گئے ہیں۔
لوٹ جا عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی سمت رفتار جہاں
پھر مری پسماندگی کو ارتقا درکار ہے
➌ دوسرا مقام افسوس یہ ہے کہ علماء نے تجارت چھوڑ دی ہے جبکہ محدثین آئمہ میں سے متعدد بزرگ تجارت کے پیشے سے منسلک تھے جن کی بدولت بازاروں میں لوگوں کو اسلامی تجارتی اصولوں سے واقفیت رہتی تھی اور دوسری طرف علماء معاش میں خود کفیل ہو جاتے بلا خوف حق بیان کرتے۔ اور حاکم/ خلیفہ کی طرف سے صاحب السوق آفیسر بھی گشت کرتا رہتا تھا جہاں خرابی نظر آتی اصلاح کرتا تھا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 232
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب بيع المنابذہ، رقم: 2146، صحیح مسلم، البيوع، باب ابطال بيع الملامسة والمنابذہ، رقم: 1511