حدیث نمبر: 231
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ أَمَا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُلامَسَةُ ، وَالْمُنَابَذَةُ وَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ ، وَالاحْتِبَاءُ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی بیع اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا جو دو بیع ہیں وہ ملامسہ، منابذہ اور لباس اشتمال الصماء اور الاحتباء یعنی ایک ہی کپڑے میں ایسے انداز سے بیٹھنا کہ شرمگاہ پر کوئی چیز نہ ہو اس سے منع فرمایا۔

وضاحت:
«اشتمال الصماء» سے مراد ایک کپڑے میں خود کو اس طرح جکڑ دینا ہے کہ وہی شلوار اور قمیض کا کام دے اور ہاتھ بھی باہر نہ آ سکیں شریعت نے اس سے منع کیا آدمی کو اس صورت میں اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو حرکت ممکن نہیں اور دوسرا جب سجدہ کرے گا تو پچھلی صف کے لیے بے پردہ ہو جائے گا۔ اس لیے اس حالت سے منع فرمایا۔
«الاحتباء» سے مراد ایک کپڑا لپیٹ کر اس انداز میں بیٹھنا کہ شرم گاہ ننگی ہو جائے جیسے تہبند پہن کر گھٹنے پکڑ کر بیٹھنا یا مرد حضرات حالت احرام میں ایسے بیٹھیں تو پردہ ظاہر ہو جاتا ہے اس لیے اس سے بھی منع فرمایا۔
➌ شریعت ہمیں با حیا با پردہ دیکھنا چاہتی ہے۔ لہذا ہر وہ بیٹھنے یا لیٹنے کا طریقہ جس سے پردہ قائم نہ رہ سکے اس سے بچنا ضروری ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 231
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاستئذان، باب الجلوس كيف ما تيسر، رقم: 6284، صحیح مسلم، البیوع، باب ابطال بيع الملامسة والمنابذة، رقم: 1512