حدیث نمبر: 225
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُنَّا نَبْتَاعُ الطَّعَامَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ " .
نوید مجید طیب

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ہم زمانہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں غلہ خریدتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر ایسے لوگ مقرر کرتے جو ہمیں حکم کرتے کہ ہم غلہ اس جگہ جہاں سے خریدا ہے سے دوسری جگہ آگے فروخت کرنے سے پہلے منتقل کریں۔

وضاحت:
➊ معلوم ہوا عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بازار میں احتساب آفیسر مقرر تھے جو غیر شرعی بیوع کا جائزہ لیتے اور بر وقت خرید و فروخت اسلامی اصولوں پر کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔
➋ حکومت کو چاہیے کہ تحصیلداروں اور انتظامی افیسران کو ہدایت کرے کہ منڈیوں کے چکر لگائیں جو ماپ تول یا عمدہ اور ردی خلط کر کے فروخت کرتا پایا جائے اسے عبرت ناک سزائیں دیں جرمانے کریں، مال ضبط کریں۔
➌ جس قوم کی تجارت اسلامی اصولوں پر استوار نہیں اس کی معیشت کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی دھوکہ فراڈ معیشت کو تباہ کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 225
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب منتهى التلقى، رقم: 2166، صحیح مسلم، البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، رقم: 1527