السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 226
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُكَالَ . قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي يُقْبَضَ . قَالَ عَمْرٌو : قَالَ طَاوُسٌ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ بِرَأْيِهِ وَلا أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلا مِثْلَهُ .نوید مجید طیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے غلے کو فروخت کرنے سے منع کیا جو ماپا نہ گیا ہو۔ راوی سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں ماپنے سے مراد قبضہ میں لینا ہے، طاؤوس رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے تھی میرے خیال میں تمام چیزوں کا یہی حکم ہے۔ (یعنی کوئی بھی چیز غلہ ہو یا کوئی اور قبضہ سے پہلے آگے فروخت نہیں کرنی چاہیے)
وضاحت:
➊ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک قبضہ سے قبل فروخت کرنے والی بات کا تعلق محض غذائی اجناس سے ہے جبکہ طاؤوس رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ حکم عام ہے۔
➋ اگر کسی چیز کی قسم، وزن، مقدار، رقم اور اوصاف کا تعین کر لیا گیا ہو اور پھر مقررہ مدت پر ادائیگی ہو جائے تو پیشگی قیمت دے کر وقت مقررہ پر چیز وصول کر لینا جائز ہے۔ اسے بیع سلم یا سلف کہتے ہیں۔
➋ اگر کسی چیز کی قسم، وزن، مقدار، رقم اور اوصاف کا تعین کر لیا گیا ہو اور پھر مقررہ مدت پر ادائیگی ہو جائے تو پیشگی قیمت دے کر وقت مقررہ پر چیز وصول کر لینا جائز ہے۔ اسے بیع سلم یا سلف کہتے ہیں۔