حدیث نمبر: 224
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ " .
نوید مجید طیب

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غذائی جنس خریدے تو قبضہ میں لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرے۔“

وضاحت:
➊ کھانے پینے کی اشیاء کو قبضے میں لینے سے قبل فروخت کر دینا جائز نہیں غلہ یا مال کو پورا وصول کر لینے اور قبضہ میں لینے کے بعد فروخت کرنے میں بے شمار حکمتیں ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں: (الف) ماپ تول کے عمل سے گزرنے پر اس کا اصل وزن معلوم ہو جاتا ہے۔ نتیجتا خریدار دھوکے سے بچ جاتا ہے۔
(ب) مال کی کوالٹی اور معیار سامنے آجاتا ہے۔
(ج) مارکیٹ میں جمود نہیں رہتا۔
(د) سرمایہ دارانہ نظام کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور سرمایہ گردش میں رہتا ہے۔
(س) مہنگائی کنٹرول ہوتی ہے اور ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
(ص) مال کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے سے مزدور کو مزدوری ملتی ہے۔
➋ موجودہ مارکیٹنگ اسی فیصد سود اور حرام بیوع پر مبنی ہے۔ الا ماشاء الله بڑے تاجر ایک ہی سٹور میں پڑی چیز کا سودے پر سودا کیے جاتے ہیں حالانکہ قبضہ میں لینے سے قبل فروخت کر دینا نا جائز وحرام ہے۔ کیونکہ اس میں بہت سی قباحتیں ہیں مبیع سامان تجارت کو نہ کوئی دیکھتا ہے اور نہ ماپ تول کرتا ہے تو گویا کہ یہ روپیہ روپے کے بدلے کمی و بیشی سے فروخت ہوا اور پھر اگر چیز خراب ہوئی تو اس کا نقصان آخری خریدار کو ہو گا۔
➌ امام شافعی رحمہ اللہ نے غیر غذائی اجناس میں قبضہ کی شرط لگائی ہے بیوع میں اگر بنظر عمیق دیکھا جائے تو اسلام محنت کا قائل ہے اس لیے وہ تمام بیوع جس پر بغیر محنت کے مال مل جائے جیسے انعامی سکیمیں، قرعہ انداز یاں، پرائیس بانڈز وغیرہ یہ سب جوا اور سود کے زمرے میں آتے ہیں۔
➍ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے غلہ کو پوری طرح قبضہ میں لینے سے قبل فروخت کرنے کی ممانعت سے متعلق دریافت کیا گیا کہ ایسا کیوں ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: (اگر ایسا نہ ہو) تو یہ تو درہموں کا درہموں کے بدلے بیچنا ہوا جبکہ غلہ تو میعاد آنے پر ہی دیا جائے گا۔ [بخاري: 3132]
اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی گندم کی ایک بوری دس ہزار کے عوض خرید لے اور گندم ایک ماہ بعد لینا طے پائے پھر خریدار کسی تیسرے آدمی کو وہی گندم بارہ ہزار میں فروخت کر دے جبکہ گندم ابھی اس کے قبضہ میں نہ آئی ہو تو ایسی صورت میں پہلے شخص نے دس ہزار کو بارہ ہزار کے عوض بیچا جو صریحاً سود ہے کیونکہ گندم تو وقت مقررہ پر ملنی ہے۔ (واللہ اعلم!)
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 224
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب ما يذكر في بيع الطعام والحكرة، رقم: 2133، صحیح مسلم، البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، رقم: 1526