السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ , عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، أَنَّهُ قَدِمَ أُنَاسٌ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبِيعُونَ آنِيَةَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِلَى الْعَطَا ، فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ ، إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى " .ابو اشعث صنعانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں کچھ لوگ بازاروں میں آئے جو سونے کے برتن اور ہار وغیرہ فروخت کرتے تھے تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے اور گندم گندم کے بدلے، اور کھجور کھجور کے بدلے اور جو جو کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے فروخت کرنے سے منع کیا الا یہ کہ دونوں عوض ایک جیسے ہوں وزن میں برابر ہوں، جس نے کمی و بیشی کی یا کرائی اس نے سود کا سودا کیا۔