السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ ، عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ إِذْ غَمَزَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي ، فَقَالَ : سَلْهُ عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ بِفَضْلٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا يَأْمُرُنِي أَنْ أَسْأَلَكَ عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : هُوَ رِبًا ، فَقَالَ : سَلْهُ بِرَأْيِهِ يَقُولُ أَمْ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا يَقُولُ : سَلْهُ بِرَأْيِهِ يَقُولُ أَمْ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُحَدِّثُكُمْ : جَاءَهُ صَاحِبُ نَخْلَةٍ بِصَاعِ تَمْرٍ طَيِّبٍ ، فَقَالَ لَهُ : " كَأَنَّ هَذَا أَجْوَدُ مِنْ تَمْرِنَا " فَقَالَ : إِنِّي أَعْطَيْتُ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا وَأَخَذْتُ صَاعًا مِنْ هَذَا التَّمْرِ ، فَقَالَ : " أَرْبَيْتَ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سِعْرَ هَذَا فِي السُّوقِ كَذَا وَكَذَا وَسِعْرُ هَذَا فِي السُّوقِ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " فَبِعْهُ بِسِلْعَةٍ ، ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِكَ أَيَّ تَمْرٍ شِئْتَ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : التَّمْرُ أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الرِّبَا أَمِ الْفِضَّةُ .ابو نضرۃ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے مجھے پیچھے سے دبایا کہنے لگا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھ چاندی بعوض چاندی کمی و بیشی کے ساتھ (سودا جائز ہے؟) میں نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ آدمی مجھے کہتا ہے کہ میں آپ سے چاندی بعوض چاندی کا مسئلہ پوچھوں ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو سود ہے۔ اس آدمی نے کہا اب پوچھ یہ آپ رضی اللہ عنہ کی ذاتی رائے ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ میں نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کہا یہ کہتا ہے یہ رائے جناب والا کی ہے یا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے؟ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے وہ بیان کیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں مشاہدہ کیا ایک کھجور والا ایک صاع عمدہ کھجور لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا ”یہ ہماری کھجور سے گویا عمدہ ہے۔“ اس آدمی نے عرض کی اپنی کھجور کی دو صاع دے کر ایک صاع لی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے سودی سودا کیا“ تو اس نے کہا اللہ کے رسول اس کی قیمت بازار میں یہ یہ ہے اور ہماری کھجور کا بازاری ریٹ یہ یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی کھجور کو قیمت فروخت کیا کر پھر قیمتا جو اچھی لگے خرید لیا کر“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کھجور میں اگر سود ہو گا تو چاندی میں کیوں نہیں ہو گا؟
➋ اس مسئلہ میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نص یاد نہ ہونے پر قیاس کیا۔
➌ اس حدیث میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ مسئلہ عالم سے دلیل کے ساتھ دریافت کرنا چاہیے۔ اور دلیل کا تقاضا کرنا ہر فرد کا حق ہے۔ دلیل کے مطالبے پر سیخ پا ہو جانا انتہائی نامناسب عمل ہے جیسا کہ پیر وطریقت کے سلسلوں سے وابستگی رکھنے والوں میں یہ معاملہ عام موجود ہے۔