حدیث نمبر: 222
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، قَالَ : كُنَّا فِي غَزَاةٍ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ فَأَصَبْنَا ذَهَبًا وَفِضَّةً فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلا أَنْ يَبِيعَهَا النَّاسَ فِي أُعْطِيَاتِهِمْ قَالَ : فَسَارَعَ النَّاسُ فِيهَا فَقَامَ عُبَادَةُ فَنَهَاهُمْ فَرَدُّوهَا فَأَتَى الرَّجُلُ مُعَاوِيَةَ فَشَكَا إِلَيْهِ فَقَامَ مُعَاوِيَةُ خَطِيبًا فَقَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ يُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ يَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَيْهِ لَمْ نَسْمَعْهَا ، فَقَامَ عُبَادَةُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَنُحَدِّثَنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَرِهَ مُعَاوِيَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلا الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَلا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ " .
نوید مجید طیب

ابو اشعث رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم نے ایک لڑائی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لڑی۔ مال غنیمت میں سونا چاندی ہاتھ لگا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اس مالِ غنیمت کو لوگوں کو ملنے والے عطیات (تنخواہ) کے عوض فروخت کر دے (یعنی جب عطیات ملے قیمت اس وقت وصول کر لیں گے) لوگوں نے خریداری میں جلدی کی سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے لوگوں کو منع کیا تو لوگوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نمائندے کو سونا چاندی واپس کر دیا اس نے جا کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو شکایت کر دی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا کہ لوگوں کا حال کیا ہو گیا وہ احادیث رسول کی یہ بیان کرتے ہیں اور آپ کی یہ تم پر جھوٹ باندھتے ہیں (ہم بھی صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں) ہم نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا نہیں سنا سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ پھر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: واللہ ہم وہ احادیث ضرور بیان کریں گے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی خواہ معاویہ ناپسند کرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ سونے کو سونے سے، چاندی کو چاندی سے، گندم کو گندم سے، جو کو جو سے کھجور کو کھجور سے نمک کو نمک سے نہ بیچو الا یہ کہ برابر برابر ہو ایک جیسے اور نقد بنقد ہوں۔

وضاحت:
➊ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا انکار کرنا اس لیے تھا کہ انہیں مسئلہ کا پتہ نہ تھا بعض مجوسی النسل اس سے نعوذ باللہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرتے ہیں۔ حالانکہ تاریخ شاہد ہے کہ رافضیوں نے نہ کبھی اسلام کی خاطر تیر چلایا نہ تلوار اور نہ ہی تا قیامت انہوں نے اسلام کی خدمت کرنی ہے بلکہ الٹا اسلام میں شک وشبہات پیدا کر رہے ہیں۔
➋ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی شکایت پر عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا تھا کہ یہ سود ہے جیسا کہ اس حدیث میں عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا تو وہ باز آگئے تھے۔ دیکھیے حدیث نمبر 217۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 222
تخریج حدیث انظر ما قبلہ ، برقم : 221 ۔