حدیث نمبر: 218
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، وَرَجُلٍ آَخَرُ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ وَلا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ " . قَالَ وَنَقَصَ أَحَدُهُمَا التَّمْرَ أَوِ الْمِلْحَ وَزَادَ الآخَرُ : " مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى " .
نوید مجید طیب

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، نمک نمک کے بدلے، نہ فروخت کرو الا یہ کہ برابر، برابر نقد بنقد ہو ایک ہاتھ دو دوسرے سے لو والا معاملہ ہولیکن سونا چاندی کے عوض، چاندی سونے کے عوض، گندم جو کے عوض، جو گندم کے عوض، کھجور نمک کے عوض نمک کھجور کے عوض کا سودا ہو تو جیسے مرضی فروخت کرو (وزن میں برابری ضروری نہیں لیکن) ہو نقد ونقد جنس ایک ہے تو کمی پیشی کرنا یا کرانا سود ہے۔“

وضاحت:
➊ جنس مختلف ہو جائے تو کمی و بیشی جائز ہے لیکن دونوں میں نقد ونقد کی شرط ہے۔
➋ سوال یہ ہے کہ اگر کلو کھجور دے کر کلو ہی لینی ہے تو کیا فائدہ ہے؟ ظاہر ہے کلو ردی کے بدلے تو اعلیٰ قسم کی کلو تو کوئی نہیں دے گا۔ تو بعض علماء نے لکھا ہے کہ اس سے ایک مقصد سادگی اور قناعت پسندی بھی ہے کہ لوگ ذائقے کی تلاش میں سرگرداں نہ رہیں جو پاس موجود ہے وہی کھاؤ اس سے مہنگائی بھی کنٹرول ہوتی ہے، اب یہ حکم صرف مذکورہ چھ اشیاء میں ہے یا باقی بھی اشیاء خوردنی میں ہے اس بارے میں امام مالک رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ ہر وہ چیز جو بطور خوراک استعمال ہوتی ہے اور ذخیرہ کی جاسکتی ہے اس کا یہی حکم ہے۔
➌ اہلِ فقہ ظاہریہ صرف ان چھ اشیاء میں یہ حکم تسلیم کرتے ہیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہر وہ چیز اس میں داخل ہے جو ناپی یا تولی جاتی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں ناپی تولی کے ساتھ خوراک ہونی چاہیے۔
➍ راقم کے نزدیک موجودہ دور میں تو کاغذی کرنسی نے یہ اشکال دور کر دیے ہیں اگر کرنسی کی بجائے اشیاء کا تبادلہ کیا جائے تو ہر چیز کا یہی حکم ہوگا الا یہ ہے کہ نص نے کوئی چیز مستثنی کی ہو۔ کیونکہ حدیث نے سونے اور چاندی کے تبادلے میں بھی یہی شرط لگائی ہے جبکہ یہ دونوں خوراک نہیں اس لیے اس حکم کو محض خوراک اور ذخیرے سے مشروط کر دینا درست معلوم نہیں ہوتا (واللہ اعلم)۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 218
تخریج حدیث سنن نسائی، البيوع، باب بيع البر بالبر، رقم : 4560، سنن ابن ماجه التجارات ، باب الصرف و مالا يجوز متفاضلا يداً بيد ، رقم : 2254، وقال الالباني: صحيح ۔