السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ ، أَنَّهُ : أَخْبَرَهُ أَنَّهُ الْتَمَسَ ، صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ أَوْ تَأْتِيَ خَازِنَتِي شَكَّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ لا تُفَارِقْهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ " .سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں سو دینار کا چینج چاہیے تھا تو انہیں سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے بلایا معاملہ طے پایا وہ دینار ہاتھ میں لے کر الٹنے پلٹنے لگے اور کہنے لگے ”ذرا میرے خادمہ یا خزانچی کو غابہ سے آلینے دو“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ باتیں سن رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”واللہ جب تک سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے دینار نہ لے لو ان سے جدا نہ ہونا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا اگر چاندی کے بدلہ میں نقد انقد نہ ہو تو سود ہو گا، گندم گندم کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے کھجور، کھجور کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتی ہے، جو جو کے بدلے اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔“