السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 214
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَرْدَانَ الرُّومِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : إِنِّي رَجُلٌ أَصُوغُ الْحُلِيَّ ثُمَّ أَبِيعُهُ فَأَسْتَفْضِلُ قَدْرَ أُجْرَتِي أَوْ عَمَلَ يَدِي ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ لا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ صَاحِبِنَا إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ " . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : يَعْنِي صَاحِبَنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .نوید مجید طیب
وردان رومی سے روایت ہے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ”میں سنار ہوں زیور بنا کر فروخت کرتا ہوں اس سونے سے کٹوتی کر کے اجرت رکھ لیتا ہوں“ (بقیہ جتنا سونے کا پہلے وزن تھا اتنے میں ہی فروخت کرتا ہوں علیحدہ سے اجرت نہیں لیتا مثلا ایک دینار کا زیور بنایا تو اسی سے سونا اپنی مزدوری کاٹ لیا پھر دینار کو اگے سیل کر دیا) تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ”سونے (زیور) کا سودا سونے (دینار) سے کرنا ہو تو کمی پیشی جائز نہیں۔
وضاحت:
➊ دینار سونے سے بنایا جاتا تھا اور درہم چاندی سے، جو حکم سونے کا ہوتا وہی دینار کا اور جو حکم چاندی کا وہی درہم کا تھا۔
➋ موجودہ زمانے میں کاغذی روپیہ چاندی اور سونے کا متبادل ہے اس لیے زیور خریدتے ہوئے مارکیٹ ویلیو سے زیادہ کاغذی روپیہ نہ دیا جائے، مزدوری علیحدہ طے کی جانی چاہیے۔ یعنی بنوائی کی اجرت علیحدہ طے ہونی چاہیے۔ زیورات سے سونے کی صورت میں کٹوتی درست نہیں۔ واللہ اعلم۔
➌ اس طرح سونا اور چاندی کی جیولری کا لین دین کرتے وقت ادھار لین دین کرنا اور کمی و بیشی بھی جائز نہیں ہے۔
➋ موجودہ زمانے میں کاغذی روپیہ چاندی اور سونے کا متبادل ہے اس لیے زیور خریدتے ہوئے مارکیٹ ویلیو سے زیادہ کاغذی روپیہ نہ دیا جائے، مزدوری علیحدہ طے کی جانی چاہیے۔ یعنی بنوائی کی اجرت علیحدہ طے ہونی چاہیے۔ زیورات سے سونے کی صورت میں کٹوتی درست نہیں۔ واللہ اعلم۔
➌ اس طرح سونا اور چاندی کی جیولری کا لین دین کرتے وقت ادھار لین دین کرنا اور کمی و بیشی بھی جائز نہیں ہے۔