السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ صَائِغٌ ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ ثُمَّ أَبِيعُ الشَّيْءَ مِنْ ذَلِكَ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهِ فَأَسْتَفْضِلُ فِي ذَلِكَ قَدْرَ عَمَلِ يَدِي . فَنَهَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ فَجَعَلَ الصَّائِغُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ يَنْهَاهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَى دَابَّتِهِ يُرِيدُ أَنْ يَرْكَبَهَا ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ " . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : هَذَا خَطَأٌ .مجاہد بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ان کے پاس ایک سنار آیا کہنے لگا ”اے ابو عبدالرحمن ! میں زیور تیار کرتا ہوں تو اپنی مزدوری اس سے کاٹ کر (تو اس کا وزن کٹوتی سے کم ہو جاتا ہے) پھر اسے وزن سے زیادہ میں فروخت کر دیتا ہوں“ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے اس عمل سے منع کیا سنار بار بار یہی سوال کر رہا تھا سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ اسے منع فرما رہے تھے حتی کہ مسجد کے دروازے یا سواری تک سوار ہونے کے لیے آ گئے پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دینار سے دینار کے تبادلے میں اور درہم سے درہم کے تبادلے میں ان کے درمیان اضافہ جائز نہیں، یہ ہمیں اپنے نبی ﷺ کی طرف سے تاکید ہے اور ہماری تم کو تاکید ہے۔“