السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبَ أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : مَا أَرَى بِهَذَا بَأْسًا . فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ ؟ أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ ! لا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ أَنْتَ فِيهَا ، ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ : " أَنْ لا تَبِيعَ ذَلِكَ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ وَوَزْنًا بِوَزْنٍ " .عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سونے یا چاندی کا برتن اس کے وزن سے زیادہ سونے یا چاندی کے عوض خریدا، تو سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جیسے سودے سے منع فرماتے ہوئے سنا الا یہ کہ دونوں کا وزن برابر ہو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے اس میں کوئی حرج نہیں لگتا (کیونکہ زیادہ مزدوری کے عوض ہے)۔ (بعض نسخوں کے مطابق) سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا میرے معاملے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کون نمٹے گا میں حدیث سنا رہا ہوں یہ اپنی رائے دے رہا ہے پھر ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا میں ایسی زمین میں سکونت اختیار نہیں کر سکتا جہاں تم ہو پھر سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے آکر شکایت کی کہ وہاں حدیث پر عمل نہیں کیا جا رہا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام حکم لکھا کہ ”سونا چاندی کی خرید و فروخت وزن بروزن اور مثل بمثل (یعنی دونوں کی جب جنس ایک ہو تو وزن برابر برابر ہو اور نقد ہو) ہوں۔“
➋ اس حدیث میں بھی اجرت کا معاملہ زیر بحث آیا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس میں کوئی حرج نہیں جانی کہ محنت تو ہوئی ہے جس پر سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے اعتراض اٹھایا۔ اس کا حل یہ ہے کہ سونے کی چیزیں خریدنے کے لیے عوض میں چاندی دے دی جائے پھر اگر اندر اجرت بھی شامل ہو جائے تو چونکہ جنس مختلف ہے تو کمی بیشی جائز ہے۔ اور چاندی کی چیزیں خریدے تو دینار سے خریدے کمی پیشی جائز ہے کیونکہ جنس مختلف ہے۔ یا دوسرا حل یہ ہے کہ اجرت علیحدہ سے طے کر لی جائے۔
➌ صحابہ کرام رضی اللہ عنهم میں بعض مسائل کی تفہیم میں فرق تھا اور اس طرح کا معمول اختلاف عیب نہیں ہے۔
➍ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد تھے اور کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنهم کی رائے کا احترام کرتے تھے۔
➎ باہمی اختلاف کا حل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے۔