حدیث نمبر: 208
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ " . وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ، وَالْمُحَاقَلَةُ اشْتِرَاءُ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ وَاسْتِكْرَاءُ الأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ .
نوید مجید طیب

سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا مزابنہ سے مراد خشک کھجور کے بدلے درخت پر لگی کھجور اور محاقلہ سے مراد دانوں کے بدلے اُگی فصل خرید لینا اور دانوں کے بدلے زمین ٹھیکے پر دینے سے بھی منع فرمایا۔

وضاحت:
➊ زمین ٹھیکے پر دینا یا بٹائی پر دینے کو استکراء، کراء وغیرہ کہا جاتا ہے، اس کی دو صورتیں ہیں۔
(الف) ناجائز صورت: زمین ٹھیکے پر اس طرح دی جائے کہ اچھی پیداوار والی مالک اپنے لیے مخصوص کرے اور بنجر زمین مزارع کو دے دے یا فصل اگنے کے بعد اچھی فصل والا رقبہ مالک کہے میں لوں گا یہ صورت حرام ہے۔
(ب) جائز صورت یہ ہے کہ پیداوار جتنی بھی ہو اس کا نصف یا 1/3 یا جو بھی پرسنٹیج طے پائے یا پیسے لے کر زمین کرائے پر دے دینا یہ دونوں صورتیں جائز ہیں۔
➋ حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے زمین کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین بٹائی پر دینے سے منع فرمایا میں نے کہا درہم و دینار یعنی بعوض پیسے بھی منع ہے؟ انہوں نے کہا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف زمین کی پیداوار کے عوض دینے سے منع فرمایا تھا سونے چاندی کے عوض تو کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي: 3900] اس ممانعت سے مراد خاص حصہ اپنے لیے مخصوص کر لینا ہے، اگر مالک جملہ پیداوار سے حصہ لیتا ہے تو منع نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارض خیبر یہودیوں کو کرائے پر دی سالانہ نصف پیداوار لیتے تھے۔[بخاری: 2328]
➌ اس لیے ممانعت سے مراد یہ ہے کہ پہلے ہی مخصوص غلہ لے کر ٹھیکہ پر دی جائے یا فصل میں سے اچھا حصہ مخصوص کر لینا منع ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 208
تخریج حدیث مؤطا امام مالك ، البيوع، باب ماجاء في المزانبة والمحاقلة، رقم : 25، وقال ابن عبدالبر هذا الحديث مرسل فى المؤطا عند جميع الرواة التمهيد : 441/6 ۔