حدیث نمبر: 207
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلا وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلا " .
نوید مجید طیب

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا بیع مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجور خشک کھجور کے بدلے ماپ کر فروخت کی جائے اسی طرح بیل پر لگے انگور منقی کے بدلے فروخت کیے جائیں۔

وضاحت:
➊اس بیع میں بھی کمی و بیشی کا احتمال ہے جب اشیاء ہم جنس ہوں تو کمی و بیشی کے ساتھ فروخت کرنا سود ہے۔ ایسی صورت میں برابر وزن اور نقد سودا کرنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 207
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب بيع الزبيب بالزبيب، رقم : 2171، صحیح مسلم ، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر ..... الخ، رقم : 1542 ۔