حدیث نمبر: 206
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ " . وَالْمُحَاقَلَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَةِ فَرَقِ حِنْطَةٍ . وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ التَّمْرَ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِمِائَةِ فَرَقِ تَمْرٍ .
نوید مجید طیب

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ اور مزابنہ بیوع سے منع فرمایا۔ محاقلہ سے مراد کھیت میں اُگی فصل معین مقدار میں خشک غلے کے عوض فروخت کرنا ہے اور مزابنہ ، درخت پر لگے پھل کو معین مقدار میں خشک پھل کے عوض فروخت کرنے کو کہتے ہیں۔

وضاحت:
➊ محاقلہ اور مزابنہ کی بیوع منع ہیں البتہ بیع عرایا اس سے مستثنیٰ ہے جس کی ایک صورت اس طرح بھی ہوتی ہے کہ باغ والا ایک درخت غریب کو دے دیتا ہے کہ اس کا پھل تم لے لو درخت مالک کا ہی رہتا ہے تو غریب بار بار چکر لگائے گا کبھی پانی دینے کبھی کھجور اتارنے اس سے مالک کی ٹینشن میں اضافہ ہوگا اس مجبوری کو سامنے رکھ کر شریعت نے عرایا کی اجازت دی کہ وہ مالک سے خشک کھجور اس درخت پر لگے پھل کے عوض لے لے یہ بھی ایک عرایا کی شکل ہے۔ [مزید دیکھئے: شرح حدیث نمبر 199، 200]
➋ مزابنہ اور محاقلہ سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ایک فریق کے نقصان کا احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے پھل تھوڑا نکلے یا اس پر کوئی آفت آن پڑے پھر جھگڑا کھڑا ہو جائے تو شریعت ہر فراڈ، دھوکے اور ایسی بیوع جو امت مسلمہ میں حسد بغض، نفرت کدورت کا باعث بنتی ہوں یا اغلب گمان ہو اس سے منع کرتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 206
تخریج حدیث صحیح بخاری، المساقاة، باب الرجل يكون له ممر ...... الخ، رقم : 2381، صحیح مسلم ، البيوع، باب النهي عن المحاقلة والمزابنة ..... الخ، رقم : 1536 ۔