حدیث نمبر: 205
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ ، سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ ، فَقَالَ : أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ ؟ فَقَالُوا : الْبَيْضَاءُ فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَنْقُصُ إِذَا يَبِسَ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ .
نوید مجید طیب

ابو عیاش یزید رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بیضاء نامی غلے کو سلت نامی غلے سے فروخت کرنے کے بارے سوال کیا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”ان دونوں میں سے عمدہ غلہ کون سا ہے؟“ شاگردوں نے عرض کیا: ”بیضاء“ تو انہوں نے منع کر دیا اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا خشک کھجور تازی کھجور کے عوض خریدیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا رطب خشک ہو کر وزن میں کم ہو جائے گی؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”جی ہاں“ تو آپ ﷺ نے اس بیع سے منع کر دیا۔“

وضاحت:
➊ بظاہر لگتا ہے کہ بیضاء سلت کی ہی ہم جنس یا اسی کی اعلی قسم ہے اس لیے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 205
تخریج حدیث سنن ابی داؤد ،البيوع ، باب في التمر بالتمر، رقم : 3359 وقال الالباني: صحيح ، سنن ترمذی، البيوع، باب ماجاء في النهي عن المحاقلة والمزانبة، رقم : 1225 وقال: حسن صحيح۔