حدیث نمبر: 204
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ هُمَا أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا عَنِ الآخَرِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكَلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ؟ " قَالَ : لا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاثَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلا تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ اشْتَرِ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر میں ایک تحصیلدار تعینات کیا جو ریونیو میں بڑی عمدہ کھجوریں لایا تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا سارے خیبر میں ایسی ہی کھجوریں ہیں؟“ اس نے کہا: ”نہیں واللہ اے اللہ کے رسول! ہم دو صاع ردی کھجور دے کر ایک صاع یہ عمدہ لیتے ہیں اور تین صاع دے کر دو صاع لے لیتے ہیں۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو اپنی تمام کھجور درہموں کے عوض فروخت کیا کرو پھر درہم سے عمدہ کھجور علیحدہ خرید لیا کرو۔“

وضاحت:
➊ خیبر مدینہ سے شمال مشرق کی جانب واقع ہے مدینہ کے جلا وطن یہودی قبائل یہاں آباد ہوئے پھر اُن کی سازشوں کے باعث محرم 7ھ میں 1400 صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ علاقہ فتح کیا پھر نصف پیداوار پر انہوں نے صلح کی ہر سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تحصیلدار اپنا حصہ وصول کرنے جاتا جو آفیسر ریونیو کہلاتا ہے اس کا نام سیدنا سواد بن غزیہ رضی اللہ عنہ تھا۔
➋ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اشیاء خوردنی ہم جنس کا تبادلہ کمی و بیشی کے ساتھ درست نہیں گو قیمت کے اعتبار سے ایک مہنگی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ اشیاء خوردنی میں سود ہے لہذا ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ بیچو جب جنس ایک ہو۔
➌ جب جنس ایک اور وزن برابر ہو مثلاً ایک کلو گندم کے بدلے ایک کلو ہی گندم لی جائے تو نقد جائز ہے۔
➍ اگر گندم کلو کے بدلے دو کلو کھجور دی جائے یعنی جنس مختلف ہو تو کمی و بیشی بھی جائز ہے لیکن یہ بھی سودا نقد ہونا ضروری ہے ادھار ناجائز ہے۔ یعنی گندم آج لے لے اور کھجور کل دے دینا یہ ناجائز ہے۔ «يدا بيد» کی شرط ہے نقد و نقد۔ اس کی مزید وضاحت حدیث نمبر 209 اور 210 میں آئے گی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 204
تخریج حدیث صحیح بخاری ، البيوع، باب اذا اراد بيع تمر بتمر خير منه، رقم : 2202 ، صحیح مسلم المساقاة، باب بيع الطعام مثلا بمثل رقم : 1593 ۔